پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اہم خفیہ آپریشن کے دوران دہشتگرد تنظیم داعش خراسان (ISIS-K) کے ترجمان اور تنظیم کے آفیشل میڈیا ونگ الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی خارجی سلطان عزیز اعظّام کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی داعش کے عالمی نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی القاعدہ اور داعش سے مشابہ،امریکی جریدے کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق گرفتار دہشتگرد سلطان عزیز اعظّام، داعش خراسان کی سرگرمیوں، پراپیگنڈا مشینری اور بھرتیوں کے مرکزی نیٹ ورک کا اہم حصہ تھا۔ اس گرفتاری کے بعد داعش خراسان کے میڈیا پلیٹ فارمز اور پروپیگنڈا سرگرمیاں بھی معطل ہو گئی ہیں۔
اعظّام کی گرفتاری کیسے اہم؟
ذرائع کے مطابق الاعظائم فاؤنڈیشن، داعش خراسان کی بھرتی، نظریاتی مواد اور عالمی پروپیگنڈے کا بنیادی ذریعہ تھی، جس کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جاتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ کارروائی کے بعد ’وائس آف خراسان‘ سمیت داعش خراسان کے اہم میڈیا پلیٹ فارمز بھی غیر فعال کر دیے گئے ہیں۔
عالمی سطح پر اثرات
اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 16ویں رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس کی کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کا تنظیمی ڈھانچہ عالمی سطح پر کمزور ہوا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے داعش خراسان کے کئی اہم دہشت گرد گرفتار کیے، تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد واضح طور پر کم ہو رہی ہے۔ متعدد منصوبہ بند حملے ناکام بنا دیے گئے۔ نظریاتی رہنماؤں اور کمانڈرز کو نیوٹرلائز کیا گیا

مزید یہ کہ مئی 2025 میں سلطان عزیز اعظّام اور سینئر رہنما ابو یاسر الترکی کی گرفتاریوں نے داعش کے آپریشنل اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔
یاد رہے حالیہ مہینوں میں پاکستان نے داعش خراسان کے خلاف تیز رفتار کارروائیاں کرتے ہوئے کئی ہائی پروفائل نیٹ ورکس کو توڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری خطے میں دہشتگردی کے امکانات کم کرنے اور عالمی شدت پسند گروہوں کے خلاف اہم پیشرفت ہے۔














