کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کیوں مؤخر ہوئے؟

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان بھر میں ہر سال ماہِ نومبر سے مختلف بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات کے حوالے سے گہماگہمی اپنے عروج پر ہوتی ہے، وکلا کی دعوتیں، اشتہاری مہمات اور ملاقاتیں عام انتخابات جیسا ماحول بنا دیتی ہیں۔

خاص طور پر کراچی میں سٹی کورٹ کے انتخابات کا تذکرہ گھر گھر ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عدالتیں عام شہریوں سے براہِ راست جڑی ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی کام سے ہر دوسرا شہری سٹی کورٹ کراچی ضرور گیا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی عزائم والے وکلا جوڈیشل کمیشن اجلاس کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، بار ایسوسی ایشنز نے ہڑتال کی کال مسترد کردی

سٹی کورٹ میں وکلا کی نمائندہ تنظیم، کراچی بار ایسوسی ایشن، ہر سال دسمبر میں انتخابات کا انعقاد کرتی ہے، اس سلسلے میں نہ صرف سٹی کورٹ بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بھی تشہیری سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں، اہم مقدمات کے سوا وکلا اپنے مقدمات کی تاریخیں آگے بڑھا دیتے ہیں، اور معمول کا عدالتی کام رکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

روایت کے عین مطابق ہر سال کی طرح سال 2025-26 کے لیے کراچی بار کے انتخابات 18 دسمبر کو منعقد ہونا تھے، تمام تیاریاں مکمل تھیں، وکلا کو اگلے دن اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا تھا، عدالتی امور کو الیکشن کے باعث معطل کر دیا گیا تھا اور ووٹرز بھرپور تیاری کے ساتھ پولنگ اسٹیشنز پہنچے، تاہم کراچی بار کی تاریخ میں پہلی بار تمام انتظامات مکمل ہونے کے باوجود ایک ووٹ بھی کاسٹ ہوئے بغیر انتخابات موخر کر دیے گئے۔

مزید پڑھیں: لاہور وکلا پر تشدد، کراچی بار ایسوسی ایشن کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات چیف الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی نعیم میمن کی طبیعت ناسازی کے باعث ملتوی ہوئے، دن بھر امیدوار اور ان کے ووٹرز پولنگ کے آغاز کے منتظر رہے، تاہم تکنیکی وجوہات کی بنا پر نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر نہ ہو سکا، جس کے بعد دوپہر میں پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ کا سامان واپس جمع کرا دیا۔

الیکشن شیڈول کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز صبح 9 بجے ہونا تھا، تاہم مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود پولنگ شروع نہ ہو سکی، جوائنٹ سیکریٹری عرفان عزیز اور سیکریٹری بار کے امیدوار کے مطابق جب تاخیر سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں تو بتایا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی نعیم میمن کی غیر موجودگی کے باعث پولنگ کا عمل روک دیا گیا ہے، کیونکہ وہ طبیعت کی خرابی کے باعث فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کیوں مؤخر ہوئے؟

اس صورتحال کے پیش نظر کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری غلام رحمان کورائی کی جانب سے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو لکھے گئے ایک باقاعدہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر رات گئے دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

’طبیعت کی خرابی کے باعث وہ انتخابی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے، لہٰذا الیکشن کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر کسی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو متبادل الیکشن کمشنر نامزد کیا جائے۔‘

خط میں واضح کیا گیا کہ انتخابات کی نگرانی کا معاملہ انتہائی فوری نوعیت کا ہے اور کسی بھی تاخیر سے انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

انتخابات میں پیش آنے والی رکاوٹ کے بعد کراچی بار ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے صدر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر حسیب جمالی کے ہمراہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، جسٹس ظفر احمد راجپوت سے ملاقات کی۔

ملاقات میں انتخابات کے تعطل، چیف الیکشن کمشنر کی غیر موجودگی اور متبادل تقرری کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی، بعد ازاں رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے کراچی بار ایسوسی ایشن کو جوابی خط ارسال کیا گیا، جس کے مطابق کراچی بار کی درخواست چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے روبرو پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: 27 ویں ترمیم کے خلاف کنونشن بدمزگی کا شکار، کیا وکلا تقسیم ہیں؟

تاہم چیف جسٹس نے احکامات جاری کیے کہ مذکورہ معاملہ ایڈمنسٹریشن کمیٹی سے متعلق ہے اور اسے یکطرفہ طور پر طے نہیں کیا جا سکتا، رجسٹرار نے اپنے خط میں واضح کیا کہ چیف جسٹس کے احکامات سے کراچی بار ایسوسی ایشن کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر کراچی بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے باہر امیدوارانِ انتخابات کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس کی قیادت بیرسٹر سرفراز میتلو ایڈووکیٹ نے کی، مظاہرین نے الیکشن ملتوی کرنے کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ماہ سے انتخابات کی تیاری کر رہے تھے، تاہم دانستہ طور پر انتخابات موخر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وکلا برادری اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور موجودہ کراچی بار کمیٹی انتخابات کرانے میں ناکام ہو چکی ہے، ان کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستان بار کے انتخابات کا جواز بنا کر کراچی بار کے انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انتخابات کرائے جائیں۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی طبیعت کی خرابی کے باعث پولنگ کا آغاز ممکن نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی بار کی جانب سے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو متبادل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے خط لکھا جا چکا ہے اور اسی سلسلے میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم کیخلاف وکلا کنونشن بار قیادت کے اختلافات کا شکار ہونے کے بعد سڑک پر منعقد

صدر کراچی بار کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا اختیار ہے اور وہ خود اس حوالے سے یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتے، چیف جسٹس نے یہ بھی بتایا کہ ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے بعض اراکین اس وقت دستیاب نہیں، جس کے باعث فوری فیصلہ ممکن نہیں ہو سکا۔

عامر نواز وڑائچ کے مطابق یہ ایک جمہوری عمل ہے اور ہم نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو آئندہ 3 دن کا وقت دیا ہے، امید ہے کہ یہ عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ہار جیت سے ہٹ کر یہ ایک روایت اور طریقہ کار ہے، جس کا ہر صورت برقرار رہنا ضروری ہے۔

وکلا کے مطابق یہ مقابلہ وکلا کے دو بڑے دھڑوں کے درمیان ہے، ایک جانب سندھ ہائیکورٹ بار کے نو منتخب صدر کے حمایت یافتہ امیدوار عامر نواز وڑائچ ہیں، جبکہ دوسری جانب سابق صدر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر سرفراز میتلو کا گروپ ہے، جن کا امیدوار جے ایم کورائی ہے، جنہیں حال ہی میں ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق سرفراز میتلو کے حمایت یافتہ جے ایم کورائی کی جانب سے انتخابات موخر کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ نئی حکمتِ عملی ترتیب دے کر انتخابی کامیابی حاصل کی جا سکے۔ بعض وکلا میں یہ بے چینی بھی پائی جاتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یعنی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی کے لیے کوئی متبادل پہلے سے مقرر نہیں تھا، جس کے باعث پورا انتخابی عمل رک گیا۔

وکلا ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سرفراز میتلو کی صورت میں سندھ ہائیکورٹ بار کی نشست سے محروم ہو چکی ہے، تاہم کراچی بار پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان