بنگلہ دیش میں انقلاب منچ کے ترجمان عثمان ہادی کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ رات چٹاگانگ میں عوامی لیگ کے سابق وزیر تعلیم محب الحسن چوہدری نوفل کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔
مذکورہ واقعہ رات تقریباً گیارہ بجے چشمہ ہل کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مشتعل مظاہرین نے محب الحسن چوہدری کے گھر میں ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی، یہ گھر چٹاگانگ کے سابق میئرمحی الدین چوہدری کا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد، ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ
اس سے پہلے، انقلاب منچ کے طلبہ اور کارکنوں نے سولو شہر نمبر 2 گیٹ پر عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی تھی۔
https://Twitter.com/imSujanDatta/status/2001734148663497062
مظاہرین بعد میں میئر گلی کی طرف مارچ کرتے ہوئے آتشزنی کے واقعہ کے مقام تک پہنچے۔
ایک اور گروپ نے اسی دوران شہر کے خورشی علاقے میں بھارتی حکومت کے مشن دفتر کے سامنے مظاہرہ اور دھرنا بھی دیا۔
مزید پڑھیں: عثمان ہادی قتل، ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمیشن پر حملہ، اخبارات کے دفاتر نذر آتش
واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پنچ لائیش پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج محمد سلیمان نے بتایا کہ تقریباً 200 مظاہرین سولو شہر اور نمبر 2 گیٹ کے علاقوں میں جمع ہوئے تھے۔
’اس کے بعد وہ میئر گلی کی طرف مارچ کرتے ہوئے آوامی لیگ کے رہنما محب الحسن چوہدری کے گھر کے سامنے ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی۔‘
مزید پڑھیں: ‘آج باہر رکے، اگلی بار اس میں داخل ہوں گے،’ ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر شدید احتجاج
ان کے مطابق پولیس موقع پر موجود تھی اور حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔
پولیس کے مطابق، اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور رپورٹنگ کے وقت تک صورتحال قابو میں تھی۔














