وزیر اعلیٰ پنجاب کی سینیئر ایڈوائزر سینٹر انوشہ رحمان کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں لاہور میں زیر تعمیر نواز شریف آئی ٹی سٹی منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نواز شریف آئی ٹی سٹی کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا جبکہ ڈیویلپرز کے لیے لائسنسز کے اجرا سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ اس موقع پر لائسنسز کے اجرا کے حوالے سے جلد ماڈیلیٹیز طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان اسمبلی اجلاس: دی بلوچستان لیکس پر اظہار برہمی، سائبر کرائمز کے تحت کارروائی کی ہدایت
سینیئر ایڈوائزر انوشہ رحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلا نواز شریف آئی ٹی سٹی لاہور میں قائم کیا جا رہا ہے، جہاں ملکی اور غیر ملکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی۔
انوشہ رحمان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب اس اہم منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے کی خواہاں ہیں اور اس ضمن میں افسر شاہی کی تمام رکاوٹوں کو دور کر کے منصوبے کو برق رفتاری سے آگے بڑھانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئی ٹی سٹی میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو ہر ممکن سہولیات اور ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق ان کمپنیوں کو 10 سال تک انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب کابینہ کا اجلاس: تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت اور عوامی سہولیات کے حوالے سے اہم فیصلے
سینیئر ایڈوائزر نے جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی نواز شریف آئی ٹی سٹی کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تیز رفتار تکمیل سے آئی ٹی سیکٹر کو فروغ ملے گا اور عوام اس سے براہ راست مستفید ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں ڈیجیٹل اکانومی اتھارٹی بھی قائم کی جا رہی ہے اور اگر کام کرنے کا جذبہ ہو تو اہداف کا حصول ممکن ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ ظہیر حسن، سی ای او سی بی ڈی عمران امین اور علی وقار شاہ نے شرکت کی، جبکہ چیئرمین پاکستان اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی اظفر منظور ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔














