ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کا گوگل کی حمایت یافتہ کمپنی میں ضم ہونے کا اعلان

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے فیوژن انرجی کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے گوگل کی حمایت یافتہ  کمپنی ٹرائی الفا انرجی  کے ساتھ انضمام کا اعلان کردیا ہے۔

اس معاہدے کے بعد ٹرمپ خاندان کے کاروباری منصوبوں کی فہرست میں ایک اور شعبہ شامل ہو گیا ہے، جن میں کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ اور موبائل سروسز پہلے ہی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ میڈیا کا مصنوعی ذہانت کی دنیا میں قدم، 2 ایپلیکیشنز کے لیے درخواست دیدی

حالیہ مہینوں میں ٹیکنالوجی انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی بجلی ضروریات نے جوہری توانائی میں دوبارہ دلچسپی پیدا کردی ہے، جس میں بند کیے گئے ری ایکٹرز کو دوبارہ چلانا، موجودہ پلانٹس کی توسیع اور مستقبل کے اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز کے معاہدے شامل ہیں۔ تاہم کئی دہائیوں کی عالمی کوششوں کے باوجود نیوکلیئر فیوژن اب تک تجارتی سطح پر قابل عمل ری ایکٹر فراہم نہیں کرسکی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Earn Your Leisure (@earnyourleisure)

ٹی اے ای ایک طویل عرصے سے گوگل ریسرچ کے ساتھ فیوژن سائنس پر کام کررہی ہے اور اس کے سرمایہ کاروں میں شیورون اور سومیٹومو کارپوریشن آف امیریکاز شامل ہیں۔ 1998 میں قائم ہونے والی یہ کمپنی انرجی اسٹوریج کے کاروبار کے ساتھ ساتھ لائف سائنسز یونٹ بھی چلاتی ہے جو کینسر کے علاج کے لیے حیاتیاتی بنیادوں پر ریڈیوتھراپی تیار کرتا ہے۔

معاہدے کی شرائط

معاہدہ مکمل ہونے کے بعد دونوں کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز مشترکہ ادارے میں تقریباً 50 فیصد کے مالک ہوں گے۔ یہ معاہدہ وسط 2026 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ ایک ہولڈنگ کمپنی کے طور پر کام کرے گی، جس کے تحت ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم، ٹی اے ای پاور سلوشنز اور ٹی اے ای لائف سائنسز شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 97 فیصد میڈیا میرے خلاف، لائسنسوں سے محروم کردینا چاہیے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

اعلان کے بعد پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں ٹرمپ میڈیا کے حصص میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ رواں سال کمپنی کے شیئرز مجموعی طور پر تقریباً 70 فیصد کمی کا شکار رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی اے ای کو سیاسی سطح پر مضبوط حمایت حاصل ہونے کی توقع بھی اس دلچسپی کی ایک وجہ ہے۔

فیوژن ٹیکنالوجی کی صورتحال

دنیا بھر میں کمپنیاں اور قومی لیبارٹریوں کے ماہرین دہائیوں سے فیوژن ری ایکشنز کو قابل عمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں ہلکے ایٹمز کو انتہائی درجہ حرارت پر جوڑ کر توانائی پیدا کی جاتی ہے، یہی عمل سورج کو توانائی فراہم کرتا ہے۔

کمرشلائزیشن میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ری ایکشن سے حاصل ہونے والی توانائی اس توانائی سے زیادہ ہو جو اس میں ڈالی جاتی ہے، اور ایسے پلانٹس تیار کیے جائیں جو مسلسل فیوژن ری ایکشنز برداشت کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: تصویر میں بال درست نہ ہونے پر صدر ٹرمپ ٹائم میگزین پر برس پڑے

اسی ماہ ٹی اے ای کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر فیوژن کمپنیوں کے رہنماؤں نے امریکی محکمہ توانائی کے حکام سے ملاقات کی، جو محکمے کی جانب سے اپنا پہلا فیوژن آفس قائم کرنے کے چند ہفتوں بعد ہوئی۔

کمپنی اب تک نجی سطح پر 1.3 ارب ڈالر سے زائد فنڈنگ حاصل کر چکی ہے اور اگلی نسل کے نیوٹرل بیم سسٹمز تیار کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔

معاہدے کے تحت ٹرمپ میڈیا دستخط کے وقت ٹی اے ای کو 200 ملین ڈالر نقد فراہم کرے گی جبکہ رجسٹریشن کی ابتدائی فائلنگ پر مزید 100 ملین ڈالر دیے جائیں گے، دونوں کمپنیوں کے بورڈز اس معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد دنیا کے پہلے یوٹیلیٹی اسکیل فیوژن پاور پلانٹ کی تعمیر شروع کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان