وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی مذارات کی بات آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو بڑھائیں، ہم نے نہیں روکا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت کا آغاز تب ہو گا جب عمران خان پی ٹی آئی کو اجازت دیں گے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط سامنے آگیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ فواد چوہدری، محمود مولوی اور عمران اسماعیل نے ہم سے اسپیکر آفس میں ملاقات کی، اور کہاکہ مذاکرات ہونے چاہییں، جس پر ہم نے کہاکہ وزیراعظم خود پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی ابھی تک مذاکرات کی بات نہیں کی، وہ احتجاج کی بات کرتے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ عمران خان نے لانگ مارچ اور 9 مئی کیا، وہ ملوث نہیں تو اس میں کون ملوث ہے؟ فیض حمید اگر اس معاملے میں ملوث پائے گئے تو ان کا کیس فوجی عدالت میں چلے گا، اور اس بات کے روشن امکانات ہیں کہ وہ اس میں ملوث پائے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ فیض حمید اگر افراتفری پھیلانے میں ملوث ہوئے تو عمران خان سمیت اور بھی لوگ اس میں ملوث پائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو عدالت نے آج 9 مئی کے ایک اور کیس میں بری کردیا ہے، جس کے بعد ان کی رہائی کے امکانات ہیں۔
مزید پڑھیں: سلمان اکرم راجا کی اسپتال میں زیرعلاج شاہ محمود قریشی سے ملاقات، اہم مشاورت کی
دوسری جانب کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے رہنماؤں جن میں شاہ محمود قریشی بھی شامل ہیں، نے ایک کھلے خط کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے۔














