وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں عمران خان اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ واضح ہے اور انہی پر فوکس ہے۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس گٹھ جوڑ کے ناقابل تردید ثبوت آئے ہیں اور مرکزی کردار عمران خان اور فیض حمید ہی تھے، تاہم باقی کرداروں جن میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ شامل ہیں، کے بارے میں قانونی تحقیقات ہوں گی، تبھی کچھ سامنے آ سکے گا۔
مزید پڑھیں: فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے سیاسی مشیر رہے، عطا تارڑ کا دعویٰ
عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور اب کچھ نہیں کر سکتی، یہی وجہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اب سنجیدہ طرز عمل اختیار کیا ہے اور گذشتہ دو ہفتوں سے وہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے سرکاری حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ نفرت کا بیانیہ بنانے والوں نے ملک کو ڈیفالٹ کروانے کے لیے آئی ایم ایف کو خط لکھا اور دنیا بھر میں پاکستان کو تنہا کردیا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان دوسروں کے بچوں کو تو مروانے کے لیے آگے کر دیتے ہیں اور انہیں آزادی یا موت کا درس دیتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو پاکستان کی شہریت بھی نہیں دی اور انہوں نے آج تک پاکستان کے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کے لیے اپلائی نہیں کیا جس کی ایک وجہ گولڈ سمتھ خاندان یا ان کا ماموں زیک گولڈ سمتھ ہو سکتا ہے۔
’عمران خان کا ایک ناشتہ غریب کے چار دن کے کھانے کے برابر‘
ایک اور سوال کے جواب میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان ناشتے میں جو کا دلیہ اور چیا سیڈ کھاتے ہیں، ان کا ایک وقت کا ناشتہ غریب آدمی کے چار دن کے کھانے کے برابر ہوتا ہے۔
’مریم نواز کی وزارت عظمیٰ کا فیصلہ نواز، شہباز مل کر کریں گے‘
مریم نواز کے اگلے انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے کے امکانات کے بارے میں سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہاکہ اس کا فیصلہ شریف خاندان مشاورت سے کرےگا۔
اس موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے لیے وفاق میں شہباز شریف اور صوبہ پنجاب میں مریم نواز کی ورکنگ ریلیشن شپ بہت بہترین ہے۔ تاہم مستقبل میں کوئی بھی فیصلہ شہباز شریف اور نواز شریف مل کر کریں گے، کیونکہ شریف خاندان میں فیصلے اتفاق اور مشاورت سے کیے جاتے ہیں اور اس خاندان کی یہ بات مثالی ہے۔
’پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ طالبان رجیم کی بھول‘
افغانستان کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عطا تارڑ نے کہاکہ اگر افغان طالبان رجیم یہ سمجھتی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ میں کچھ کامیابی حاصل کر لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔
’غزہ قیام امن میں پاکستان کا کلیدی کردار‘
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان نے غزہ میں قیام امن کے لیے کردار ادا کیا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان ہر ممکن کوشش کرے گا۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
’دیت کے بدلے معافی کے باوجود کارروائی کے لیے قانون سازی ضروری‘
حال ہی میں اسلام آباد میں جج کے بیٹے کی گاڑی کی اسکوٹی کو ٹکر اور اس حادثے میں 2 لڑکیوں کے جاں بحق ہونے کے مقدمے پر بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایسی قانون سازی ہونی چاہیے جس میں مرنے والوں کے ورثا کی جانب سے دیت لے کر ملزمان کو معاف کر دینے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی ہو۔













