وزیر صحت مصطفی کمال نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس ٹو میں کی گئی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اور کیس سنگین نوعیت کا تھا۔ عدالتوں کی جانب سے 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
نجی ٹیلیویژن پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ اس فیصلے میں کئی سالوں سے جمع شدہ شواہد، ویڈیوز اور آڈیوز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی چیز خود کے استعمال کے لیے رکھی جاتی ہے، تو اسے کسی اور کو بیچ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے اور ملک کے لیے سنگین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب غلط کام ہوئے، لیکن یہ صورتحال پہلے کبھی اتنی واضح اور عام نہیں ہوئی تھی۔

وزیر صحت نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے ناراض ہونے کے پیچھے یہ بات سامنے آئی کہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت کنٹرول کیا گیا، اور بعد میں ثابت ہوا کہ کچھ کارروائیاں مخصوص ذرائع کے ذریعے کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس ٹو کا فیصلہ شواہد اور قانونی اصولوں کے مطابق آیا ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ یہ دکھاتا ہے کہ ریاست کے سربراہ یا وزیراعظم کے گھر میں ہونے والے اقدامات کی پوری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
مصطفی کمال نے مزید کہا کہ اگر عمران خان صاحب نے یا تو اپنی مرضی سے یہ کام کیا، یا ان کے گھر سے یہ کام ہو رہا تھا، تو بھی ذمہ داری ان کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کے ناطے کسی بھی کمزوری یا لاپرواہی کے لیے انہیں بلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ عام شہری نہیں تھے، بلکہ پاکستان کے وزیراعظم تھے۔














