ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں بھتہ خوری، بدامنی اور شہری مشکلات کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے شہر کے تاجروں اور بلڈرز کی مشکلات اجاگر کیں۔
ڈاکٹر ستار نے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، یہاں سے 60 فیصد محاصل حاصل ہوتے ہیں، لیکن شہر کے عام شہریوں کا حال انتہائی خراب ہے۔ پانی کی کمی، ٹوٹی سڑکیں اور بنیادی سہولیات کا فقدان شہریوں کی زندگی مشکل بنا رہا ہے، جبکہ پانی ٹینکر مافیا کے ذریعے تقسیم کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی: بھتہ خوری اور اغوا میں ملوث سی ٹی ڈی کے 4 افسران برطرف
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے تاجروں اور بلڈرز نے دہائی دی ہے، ریاستی اداروں کی توجہ مبذول کرائی ہے، اور سندھ کے وزیراعلیٰ و چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو بھی اس معاملے سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم، شہر میں بھتہ خوری کی لعنت ایک بار پھر سر اٹھا چکی ہے۔ تاجر بیرون ملک سے کالز اور بھتہ کی نوٹس وصول کر رہے ہیں، جن میں کروڑوں روپے کا مطالبہ شامل ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ قریباً 10 بلڈرز نے شکایت درج کرائی ہے جبکہ 40 سے زائد بلڈرز کو بھتہ خوروں سے پریشانی ہے۔ شہر کے کاروباری مراکز جیسے اولڈ سٹی ایریا، صدر اور طارق روڈ میں بھی یہ شکایات عام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور تاجروں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ستار نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں بلڈرز کے دفاتر پر فائرنگ کی گئی، اور ان کے مکمل ریکارڈ بھتہ خوروں کے پاس موجود ہیں۔ جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ نئے نہیں ہیں۔ 2012 میں گینگ وار کے نام سے شہر یرغمال بنایا گیا، جن پر قتل و غارت کے سنگین مقدمات تھے، اور وہ ملک سے فرار ہو کر بیرون ملک سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیرون ملک مقیم بھتہ خوروں کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں اور ان کو گرفتار کرکے ملک لایا جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد کراچی کے امن و امان کی ذمہ داری مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ہے اور حکومت کو اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں بھتہ خوری کی نئی لہر کے پیچھے کون ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں جہاں خالی زمینیں رہ گئی ہیں، وہاں بھی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، اور کچھ ریاستی اداروں کا کردار لائق تحسین ہے، لیکن مجموعی طور پر شہر میں تاجروں اور بلڈرز کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے تاجروں کو کس طرح کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے جب بھتہ خور اور مافیا آزادانہ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو شہر کی اقتصادی اور معاشرتی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔














