ڈھاکا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ شخص پر امریکا میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے امریکی پاسپورٹس، سوشل سکیورٹی کارڈز اور ڈرائیور لائسنس سمیت جعلی شناختی دستاویزات فروخت کرتا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے کارروائی کرتے ہوئے اس کاروبار سے منسلک تین ڈومینز ضبط کرلی ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ملزم زاہد حسن نے مبینہ طور پر 2021 سے 2025 تک بنگلادیش سے چلنے والے متعدد آن لائن کاروبار ’ ٹیک ٹریک‘ اور ’ای گفٹ کارڈ اسٹور بی ڈی‘ کے نام سے آپریٹ کیے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے مسافر گرفتار
امریکی عدالت میں پیش کیے گئے فردِ جرم کے مطابق ان پلیٹ فارمز کے ذریعے سرکاری شناختی دستاویزات کے جعلی ڈیجیٹل ٹیمپلیٹ فروخت کیے جاتے تھے، جنہیں سائبر کرائم نیٹ ورکس بینک اکاؤنٹس، سوشل میڈیا، پیمنٹ پراسیسرز اور کرپٹو سروسز پر جعلی پروفائل بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق صارفین ان دستاویزات کی خریداری کرپٹو کرنسی، خصوصاً بٹ کوائن کے ذریعے کرتے تھے۔ امریکی پاسپورٹ کا ٹیمپلیٹ تقریباً 12 ڈالر، سوشل سکیورٹی کارڈ 9.37 ڈالر، اور مونٹانا ڈرائیور لائسنس 14.05 ڈالر کے مساوی فروخت ہوتا تھا۔ صرف ’ٹیک ٹریک‘ پلیٹ فارم کے ذریعے چار سال میں 1,400 سے زائد گاہکوں نے تقریباً 2.9 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کیں۔

فرد جرم میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 13 مئی 2025 کو حسن نے مونٹانا کے شہر بوزمین میں ایک خریدار کو بٹ کوائن کے ذریعے جعلی پاسپورٹس اور لائسنس کے ٹیمپلیٹس فراہم کرنے کی کوشش کی۔
ملزم پر مجموعی طور پر 9 وفاقی الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں 6 الزامات جعلی شناختی دستاویزات کی منتقلی، دو جھوٹے پاسپورٹ کے استعمال اور ایک سوشل سکیورٹی فراڈ کا الزام شامل ہے۔ دستاویزی جعل سازی اور پاسپورٹ سے متعلق ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 15 سال قید اور سوشل سکیورٹی فراڈ پر پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ہر الزام کے ساتھ 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
تحقیقات کے حصے کے طور پر امریکی حکام نے تین متعلقہ ڈومینزtechtreek.com، اور egiftcardstorebd.com، idtempl.comضبط کرلی ہیں، جن پر اب سرکاری سیجر نوٹس ظاہر ہو رہے ہیں۔
کیس امریکی اٹارنی آفس ڈسٹرکٹ آف مونٹانا میں زیر سماعت ہے جبکہ تحقیقات ایف بی آئی، سالٹ لیک سٹی سائبر ٹاسک فورس، بلنگز ڈویژن اور ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کی سی ٹی ٹی سی یونٹ نے مشترکہ طور پر کیں۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ الزامات ابھی فرد جرم کی سطح پر ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزم کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔














