سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ 2018 میں ہمیں محدود نشستوں کے ساتھ اکثریت دی گئی، عمران خان نے تسلیم کیا کہ ہمیں اقتدار نہیں لینا چاہیے تھا جب تک مکمل مینڈیٹ نہ ملتا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن نے آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلکہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے ذاتی وجوہات پر شرکت نہیں کی، کانفرنس میں ملک بھر سے سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہم نے اکٹھا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں جینے نہیں دو گے تو آپ کو بھی جینے نہیں دینگے، اسد قیصر پھٹ پڑے
اسد قیصر نے کہا کہ قومی کانفرنس بڑی کامیاب رہی، کانفرنس کا اعلامیہ جلد جاری کیا جائے گا، اس وقت ملک کو جس طریقے سے چلایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی تو ویسے ہی وکٹم ہے، ہم پر ظلم ہو رہا ہے، جس طرح گزشتہ روز عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر پی ٹی آئی لوگوں کو سزائیں سنائی گئیں، کانفرنس 1973 کے آئین کے تحت تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دینے کے حوالے سے بلائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین عوام کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنی لیڈرشپ خود چنیں، کانفرنس میں فیصلہ کیا ہے کہ 8 فروری کو بھرپور طریقے سے یوم سیاہ منائیں گے، کیوں کہ پہلی دفعہ عوام سے ان کا ووٹ کا حق چھینا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان سے اپوزیشن اتحاد کے وفد کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اسد قیصر نے بتا دیا
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا، تمام پی ٹی آئی لیڈرشپ کو جیل میں ڈالا گیا، باقی لیڈرشپ مفرور رہی اور اس کو موقع نہیں ملا کہ وہ الیکشن مہم چلائے، اس کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی کے لوگوں کا انتخابی نشان ڈھونڈ ڈھونڈ کر انہیں ووٹ دیا۔
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو 80 سیٹیں ملیں، مخصوص سیٹیں بھی ملائی جائیں تو بات کہاں چلی جائے، پنجاب میں بڑا انقلاب آیا، نواز شریف پورے جی ٹی روڈ سے ایک سیٹ بھی نہیں جیتے، نواز شریف یاسمین راشد سے 90 ہزار ووٹوں سے ہارے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسد قیصر پی ٹی آئی میں مشاورت اور پالیسی سازی سے لاتعلق، بڑی بات کہہ دی
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن پورے لاہور سے صرف 3 سیٹیں جیتی، ن لیگ کی قومی اسمبلی کی صرف 17 سیٹیں ہیں اور وہ حکومت میں بیٹھی ہے، نہ صرف حکومت میں ہیں بلکہ آئینی ترامیم کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق سلب کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بھی ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی، ہمیں محدود اکثریت دینا چاہتے تھے تاکہ ہم مجبور ہو کر نظام چلائیں اور کوئی قانون سازی نہ کر سکیں، اس وقت عمران خان نے خود کہا کہ ہم نے اقتدار لے کر غلطی کی ہے، ہمیں حکومت نہیں لینی چاہیے تھی جب تک ہمارے پاس پورا مینڈیٹ نہ آتا۔














