ایپسٹین فائلز سے ٹرمپ کی تصویر ہٹانے پر طوفان، محکمہ انصاف تصویر بحال کرنے پر مجبور

پیر 22 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمۂ انصاف  نے بدنام زمانہ جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین سے متعلق حالیہ جاری کی گئی فائلوں میں شامل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تصویر عوامی ردِعمل کے بعد دوبارہ بحال کر دی ہے۔ یہ تصویر ہٹا دی گئی تھی جس پر شدید عوامی ردعمل ظاہر ہوا۔

محکمۂ انصاف کے مطابق یہ تصویر ایپسٹین کے دفتر میں موجود ایک میز (کریڈینزا) کی تھی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی 2 تصاویر نظر آ رہی تھیں۔ ایک تصویر میں ٹرمپ خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے تھے، جبکہ دوسری تصویر میں وہ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، جیفری ایپسٹین اور اس کی سزا یافتہ ساتھی گھسلین میکسویل کے ساتھ موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ میں شریک تھے یا نہیں، کچا چٹھا کھلنے کو تیار

اسی دستاویز میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور پوپ جان پال دوم کے ساتھ بھی ایپسٹین کی تصاویر شامل تھیں۔

محکمۂ انصاف نے وضاحت کی کہ یہ تصویر نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کی جانب سے نشاندہی کے بعد عارضی طور پر ہٹائی گئی تھی تاکہ ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کی شناخت محفوظ رکھی جا سکے۔ تاہم بعد ازاں جائزے کے بعد یہ طے پایا کہ تصویر میں ایپسٹین کے کسی متاثرہ فرد کو نہیں دکھایا گیا، جس کے بعد تصویر بغیر کسی ترمیم یا سینسر کے دوبارہ شائع کر دی گئی۔

محکمۂ انصاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ احتیاطاً تصویر کو عارضی طور پر ہٹایا گیا تھا، مگر جائزے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ متاثرین میں سے کوئی بھی تصویر میں شامل نہیں۔

دستاویزات ہٹانے پر سیاسی ہنگامہ

رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز کے حالیہ اجرا میں شامل کم از کم 16 دستاویزات ویب سائٹ سے ہٹا دی گئیں، جن میں بعض فحش نوعیت کی تصاویر، لفافوں سے بھری میل سلٹس، ایک راہداری کی تصاویر اور ایک نوٹ بک کا صفحہ شامل تھا جس میں نام اور اپارٹمنٹ نمبرز درج تھے۔

اس اقدام پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ خود ایپسٹین فائلز کی مکمل اشاعت کے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی لیکڈ ای میلز: 2018 میں عمران خان ’امن کے لیے بڑا خطرہ‘ قرار

ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس جیمی راسکن نے CNN کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’یہ سب کچھ چھپانے کی کوشش ہے، وہ چیزیں جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کے قریبی لوگ عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتے۔‘

دلچسپ امر یہ ہے کہ ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر مکمل فائلز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا ’جب تک متاثرین مطمئن نہیں ہوتے، میں بھی مطمئن نہیں ہوں گا۔‘

کیا واقعی متاثرین کا تحفظ مقصد ہے؟

اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد محکمۂ انصاف نے وضاحت کی کہ ایپسٹین سے متعلق جاری کی گئی دستاویزات میں صرف وہی معلومات حذف کی جا رہی ہیں جو قانون کے تحت متاثرین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، اور کسی سیاستدان کا نام جان بوجھ کر نہیں چھپایا جا رہا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ ہم صرف وہی معلومات حذف کر رہے ہیں جن کی قانون اجازت دیتا ہے، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ سیاستدانوں کے نام صرف اسی صورت میں ہٹائے جاتے ہیں اگر وہ خود متاثرہ فرد ہوں۔

یہ دستاویزات امریکی عدالتوں کی جانب سے ایپسٹین اور اس کی ساتھی گھسلین میکسویل کے خلاف مقدمات کے گرینڈ جیوری ریکارڈز کھولنے کی اجازت کے بعد جاری کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے لڑکیوں کی اسمگلنگ: ایک متاثرہ لڑکی نے ٹرمپ کے ساتھ ’گھنٹوں گزارے‘، ایپسٹین کی نئی ای میلز سامنے آگئیں

نیویارک ٹائمز کے ابتدائی جائزے کے مطابق ہزاروں دستاویزات میں صدر ٹرمپ کا نام بہت کم بار آیا ہے، تاہم اخبار کے مطابق ٹرمپ اور ایپسٹین برسوں تک قریبی دوست رہے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ابتدا میں فائلز جاری کرنے سے انکار نے اس قیاس آرائی کو جنم دیا تھا کہ ان فائلز میں ان کا نام شامل ہو سکتا ہے، جس کی بعد میں ان کے قریبی حلقوں نے تصدیق بھی کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد

نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید

بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘