لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک عبوری حکم کے ذریعے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت ہونے والی تمام کارروائیاں معطل کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
مذکورہ آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے یہ حکم عابدہ پروین اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران پیر کے روز کیا جاری کیا۔
ان درخواستوں میں آرڈیننس کے تحت جائیداد سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے نئے قانون کے تحت جائیدادوں کا قبضہ چھیننے سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو بھی معطل کر دیا۔
’یہ قانون نافذ رہا تو جاتی امرا کو بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جاسکتا ہے‘
قانون پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو بتایا جانا چاہیے کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو جاتی امرا کو بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ منتقل کر سکتا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو کمزور کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ انتظامیہ پر چھوڑ دیا جائے تو وہ آئین کو بھی معطل کر دیں گے۔
مزید پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، اسنوکر کلب چلانا قانونی اور جائز قرار
چیف جسٹس نے مزید نشاندہی کی کہ اگر ڈپٹی کمشنر اس قانون کے تحت کسی شخص کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو متاثرہ شخص کے پاس اپیل کا حق بھی موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ قانون ہائیکورٹ کو بھی ایسے معاملات میں حکمِ امتناع دینے کی اجازت نہیں دیتا۔
سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکریٹری اور دیگر سرکاری افسران عدالت میں موجود تھے تاہم پنجاب ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہو سکے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ علیل ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ خود بھی بیمار ہیں اور انہیں بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا ہے اس کے باوجود وہ عدالت میں سماعت کر رہی ہیں۔
بعد ازاں چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر مزید کارروائی کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔
دریں اثنا ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ایک سرکاری قانون افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبائی حکومت اس عبوری حکم کو سپریم کورٹ میں اپیل کے ذریعے چیلنج کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس کیس میں قانونی سوال شامل ہے اس لیے حکومت وفاقی آئینی عدالت سے بھی رجوع کر سکتی ہے تاہم فل بینچ سے حکمِ امتناع کے خلاف ریلیف ملنے کے امکانات کم ہیں۔
آرڈینینس میں کیا ہے؟
واضح رہے کہ یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منظور کیا تھا جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات 90 دن کے اندر نمٹانے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
اس آرڈیننس کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت قائم نئی فورس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔
انہوں نے اس موقعے پر یہ بھی ریمارکس دیے تھے کہ پٹواری اور اسسٹنٹ کمشنرز جج بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ جب کوئی معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو تو پٹواری کو اس کا نوٹس لینے کا اختیار کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔














