وادی نیلم کی خوبصورت رتی گلی جھیل شدید سردی اور درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گرجانے کے باعث مکمل طور پر منجمد ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم کا ہنر: لکڑی کی تراشی ہوئی مصنوعات جو دنیا بھر میں مقبول ہیں
سرد موسم کے باوجود قدرتی حسن کے متوالے سیاح بڑی تعداد میں رتی گلی جھیل کا رخ کر رہے ہیں۔ چاروں اطراف برف کی سفید چادر اوڑھے یہ جھیل دلکش مناظر پیش کر رہی ہے۔
سفید پوش جھیل کی رنگینیاں
سطح سمندر سے 12 ہزار 130 فٹ کی بلندی پر واقع رتی گلی جھیل ہر سیاح کا خواب سمجھی جاتی ہے۔
وادی نیلم آنے والے سیاح اس جھیل کی سیر کے بغیر اپنے سفر کو ادھورا تصور کرتے ہیں۔ جولائی سے اگست کے دوران اس جھیل کا حسن عروج پر ہوتا ہے اور ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں جبکہ اکتوبر سے اپریل تک برفباری کے باعث درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے اور جھیل مکمل طور پر جم کر اپنے بے مثل حسن کا دوسرا رخ دکھانے لگ جاتی ہے۔
کسی جھیل کے بیچوں بیچ کھڑے ہونے کا پہلا تجربہ
پشاور سے آئے سیاح عارف نے بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع ہے کہ وہ ایک منجمد جھیل پر کھڑے ہیں۔
مزید پڑھیے: وادی نیلم کا علاقہ جو جدید دور میں بھی ہرقسم کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے
انہوں نے دیگر دوستوں کو بھی اس خوبصورت اور جمی ہوئی جھیل کو دیکھنے کی دعوت دی۔
’راستے کی تھکاوٹ جھیل دیکھتے ہی رفع ہوگئی‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاح نے بتایا کہ رتی گلی جھیل تک پہنچنے میں سڑک کی خرابی کے باعث مشکلات پیش آئیں تاہم جھیل پر پہنچ کر قدرتی حسن دیکھ کر تمام تھکن اور مشکلات بھول گئے اور اس کے نظاروں میں کھو گئے۔
’بلیسنگ اِن ڈسگائیس‘
عام طور پر مئی اور جون میں برف پگھلنے کے بعد رتی گلی جھیل جانے والی سڑک بحال کی جاتی ہے مگر اس سال خشک سالی اور کم برفباری کے باعث دسمبر میں بھی سڑک کھلی رہی جس کے نتیجے میں سیاح منجمد جھیل سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں: جنگ کے بعد امن کی بہار: وادی نیلم سیاحوں سے آباد، مقامی معیشت میں نئی جان آگئی
ٹور آپریٹر رئیس خان انقلابی نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ وہ دسمبر میں منجمد جھیل پر کھڑے ہیں اور جھیل تک جانے والی سڑک بھی بحال ہے۔
رتی گلی جھیل جانے والی سڑک پر گاڑی چلانے والے ڈرائیور جہانگیر نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے اس روڈ پر گاڑی چلا رہے ہیں اور سیاحوں کو محفوظ انداز میں جھیل تک پہنچاتے ہیں۔
اس حسین جھیل سے محبت اور اسے دیکھنے کا جنون سیاحوں کو منفی درجہ حرارت میں بھی اس کے پاس کھینچ لے گیا۔
یہ بھی پڑھیے: وادی نیلم کے ٹھنڈے اور حسین نظارے دیکھنے کے لیے سیاحوں کا رش
سیاحم جھیل پر خوب تفریح کر رہے ہیں اور تصاویر بنا کر اپنے لمحات کو یادگار بنارہے ہیں۔
سڑکیں بحال رہیں تو جھیل کی سفید پوشی ہر سال دیکھی جاسکتی ہے
سیاحوں کا کہنا ہے کہ اگر موسم سرما میں بھی وادی نیلم کے بلند سیاحتی مقامات کی سڑکیں بحال رکھی جائیں تو سیاح برفباری اور سرمائی نظاروں سے بھرپور لطف اٹھا سکتے ہیں جس سے نہ صرف سرمائی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ اس صنعت سے وابستہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔













