یورپی یونین نے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے فریم ورک کے تحت پاکستان کی جانب سے 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا ہے۔
یہ جائزہ برسلز میں منعقدہ پاکستان۔یورپی یونین 15ویں جوائنٹ کمیشن اجلاس کے دوران لیا گیا۔ یورپی یونین کے مطابق پاکستان نے انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق کنونشنز پر عمل درآمد کے حوالے سے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد، پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس محفوظ
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو یورپی منڈیوں میں تقریباً 2 تہائی برآمدات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جو ملکی معیشت اور برآمدی شعبے کے لیے نہایت اہم ہے۔
یورپی یونین نے سزائے موت سے متعلق قوانین کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا۔ اسی طرح تشدد اور ناروا سلوک کے خلاف ابتدائی اقدامات کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔ اجلاس میں کمیشن برائے اقلیت کے قیام کو بھی ایک اہم قدم کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
تاہم یورپی یونین نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ جی ایس پی پلس جائزے سے قبل قلیل المدتی اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انسانی حقوق، گورننس اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے طویل المدتی اصلاحات پر بھی زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی رہنما پاکستان کی جی ایس پی پلس سہولت کیخلاف مہم چلا رہے ہیں، خواجہ آصف
اجلاس میں میڈیا کی آزادی، جبری گمشدگیاں اور عدالتی خودمختاری جیسے حساس معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستانی حکام نے یورپی یونین کو نیشنل ایکشن پلان برائے انسانی حقوق اور بزنس اینڈ ہیومن رائٹس سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔
واضح رہے کہ پاکستان کو 2014 میں جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا تھا، جس میں بعد ازاں توسیع کی گئی اور یہ حیثیت 2027 تک برقرار رہے گی۔ یورپی یونین نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اصلاحاتی عمل کو مزید مؤثر بناتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد جاری رکھے گا۔














