نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، رکاوٹ کون ہے؟

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر ریلوے و سینیئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق نے کچھ روز قبل ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میاں نواز شریف اس وقت سب سے سینیئر سیاست دان ہیں، انہیں ملک میں جاری سیاسی صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے بھی یہ مشورہ دیا ہے کہ میاں نواز شریف کو اس وقت اپنا سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف سیاست سے کنارہ کش نہیں ہوئے، 5 سال بھرپور سیاست کریں گے: مریم نواز

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنااللہ بھی کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جتنی بار پی ٹی آئی کو بات چیت کی پیشکش کی گئی، اس میں میاں نواز شریف کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔

اب گزشتہ روز ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

’نواز شریف کردار ادا کرنے کے لیے تیار مگر عمران خان رکاوٹ ہیں‘

مسلم لیگ ن کے ایک سینیئر رہنما نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ نواز شریف اپنا سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں مگر اس میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کی بات کررہی ہے مگر اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے بانی عمران خان مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

’وہ سیاسی مکالمہ شروع ہی نہیں کرنا چاہتے، نواز شریف اپنا کردار تب ادا کریں جب عمران خان کی طرف سے بھی سیاسی مکالمے کے لیے مثبت جواب ہو۔‘

’نواز شریف جانتے ہیں کہ عمران خان کسی کی بات نہیں مانیں گے‘

سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کسی کی بات نہیں مانیں گے۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف لچک دکھانے کے لیے بھی تیار ہیں، وہ پہلے بھی بنی گالہ گئے تھے، اب بھی وہ اپنا سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے رویے کا مسئلہ ہے۔

’نواز شریف بظاہر تو سیاست میں نہیں ہیں، وہ اپنا مؤقف ہی دے سکتے ہیں، خواجہ سعد رفیق نے یہ بات ملک میں جاری سیاسی صورت حال میں کی ہے، نواز شریف تب بات کریں جب ایسے حالات ہوں۔‘

’نواز شریف کے خیالات اور افکار کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے‘

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی نے کہاکہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو یہاں تک تو قبول کرتی ہے کہ وہ ملک میں رہیں، پارٹی کی قیادت کریں، پارٹی کو ہدایات جاری کریں لیکن لیڈنگ رول کے لیے میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اسی لیے 8 فروری کے الیکشن کے بعد شہباز شریف اور مریم نواز کو آگے لایا گیا، ہاؤس آف شریف میں نواز شریف کی جگہ نہیں بن پا رہی، نواز شریف اگرکوئی قائدانہ کردار ادا کرتے بھی ہیں تو انہیں اپنے گھر کے اندر مشکلات کا سامنا ہوگا، دوسرا انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: لوگ کام کو ووٹ دیتے ہیں، سیاست کے ساتھ ساتھ کام بھی ہونا چاہیے، نواز شریف

انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی حیثیت اس وقت خاندانی بزرگ کی ہے، اس ہائبرڈ نظام میں نواز شریف کے سیاسی افکار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

’نواز شریف کے پاس نہ تو انتظامی طور پر کوئی طاقت ہے، اور نہ ہی ایسے کوئی اختیارات ہیں ان کے پاس، جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ وہ پاکستانی سیاست میں کوئی کردار ادا کریں تو انہیں کہیں سے کوئی مثبت جواب ملے گا، مسئلہ سیاست میں کردار کا نہیں، مسئلہ ہائبرڈ نظام کا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی

مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

کراچی اوپن اسکواش: پہلا دن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہا

آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

ویڈیو

ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب

خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟