پاک چین تعلقات وقت کی کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات وقت کی کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے ہیں اور اس دوستی نے ملک میں انفراسٹرکچر، صنعت اور ثقافتی ترقی کے نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی وی میں ملازمین کی تعداد زیادہ، مالی کو پروڈیوسر لگا دیا گیا، وزیر اطلاعات کا انکشاف

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ خصوصی اور اسٹریٹجک تعلقات کا اعزاز حاصل ہے، جو کسی اور ملک کو حاصل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ تعاون نے نہ صرف انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی میں مدد دی بلکہ ہوائی اڈے، بندرگاہیں، سڑکیں اور پل بھی تعمیر کیے گئے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاک چین تعلقات نے ثقافتی سطح پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، مثال کے طور پر چینی شہری اب اردو بول سکتے ہیں اور پاکستانی شہری چینی زبان میں روانی سے بات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات ملک کی معیشت کی بحالی اور ترقی کی سب سے بڑے پہلوں میں سے ایک ہیں، جس کے فوائد آج ہمیں محسوس ہو رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا