ملکی معیشت پر بڑا بوجھ سمجھے جانے والے قومی اداروں کی نجکاری کی باتیں کئی برسوں سے جاری ہیں۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز سمیت مختلف اداروں کو نجکاری کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، پی آئی اے کی نجکاری دوسری کوشش میں گزشتہ روز کامیاب ہو گئی ہے اور پی آئی اے 135 ارب روپے میں نیلام کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل، حکومت کو فقط 10 ارب روپے ملیں گے
حکومت کی جانب سے جلد نجکاری کے لیے بعض اداروں کو نجکاری فہرست میں اول نمبر پر رکھا جاتا ہے اس میں پی آئی اے سر فہرست تھی، اس کے بعد بھی مزید 23 ایسے حکومتی ادارے ہیں کہ جن کی نیلامی ابھی ہونی ہے اور حکومت نے ان اداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق حکومت کے نجکاری پروگرام 2024-29 میں مختلف 24 اداروں کی نجکاری 3 مراحل میں ہے، نجکاری کو 3 مراحل (فیزز) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں فیز ون ایک سال، فیز 2 ایک سے 3 سال جبکہ فیز تھری 3 سے 5 سال پر مشتمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں نجکاری عمل میں شفافیت اور قومی مفاد کو یقینی بنایا گیا، مشیر نجکاری کمیشن
پی آئی اے آئی ایل کے روزویلٹ ہوٹل، نیویارک کی نجکاری فیز ون میں کی جائے گی، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پیکو)، سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ کی نجکاری بھی فیز ون میں ہے، ان تمام کی نجکاری ایک سال میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

مالیاتی شعبے کے متعدد اداروں کی بھی نجکاری ہونا ہے جو کہ بیشتر فیز 2 میں شامل ہیں، پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو فیز 2 میں شامل کیا گیا ہے اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں بھی فیز 2 میں فروخت کی جائیں گی، جامشورو پاور کمپنی (جینکو ون)، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی (جینکو ٹو)، نادرن پاور جنریشن کمپنی (جینکو تھری)، لکھڑا پاور جنریشن کمپنی (جینکو فور) اس کے ساتھ ساتھ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں (DISCOs) لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی، ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری فیز 2 میں کی جائے گی۔
نجکاری کمیشن نے صرف پوسٹل لائف انشورنس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کو فیز 3 میں رکھا گیا ہے، یعنی اس ادارے کو بھی آئندہ 3 سے 5 سالوں میں فروخت کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں پی آئی اے کی نجکاری: ملک کے لیے بڑا قدم، 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں فروخت
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کے مطابق لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ائیرپورٹس کو بھی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا، نجکاری کے حوالے سے 2026 میں مزید پیش رفت اور کامیابیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ اور حکومت کو ان اداروں سے جتنی آمدن پہلے ہو رہی تھی، نجکاری کے بعد اس سے زیادہ رقم ٹیکس کی صورت میں حاصل ہوگی۔
وفاقی کابینہ کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کو وزیراعظم کی جانب سے اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ان اداروں کی نشاندہی کریں جو کہ قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور جن کی نجکاری کی ضرورت ہے، جس پر رائٹ سائزنگ کمیٹی نے پاکستان پوسٹ افس کو ترجیحی بنیادوں پر نجکاری کرنے والے اداروں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان پوسٹ کی نجکاری بھی رواں سال دسمبر تک مکمل کر لی جائے۔













