سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میں نے اپنے دور میں تمام فیصلے لوگوں کی فلاح کے لیے کیے۔
مزید پڑھیں: ثاقب نثار نے ملک کو نقصان پہنچایا، فوج کی طرح عدلیہ کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے، طلال چوہدری
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی ریاست بغیر آئین کے رہ سکتی ہے، اگر الیکشن شفاف نہیں ہیں تو جمہوریت کا وجود نہیں ہو سکتا۔
ثاقب نثار نے زور دیا کہ تمام ججز نے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کی قسم اٹھائی ہے، اور یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا آج شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں، اور اگر نہیں تو کس کا فرض ہے کہ ان حقوق کا تحفظ کرے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اور آنے والے وقت میں تین چیزیں موت سے کم نہیں ہیں۔
انہوں نے رول آف لا کو سب سے اہم چیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر عدلیہ آزادی سے کام کرے گی تو ملک کی سمت درست ہوگی۔
ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم آنے والی نسل کو بچانے کے لیے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: فیض حمید کو سزا کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کہاں ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں؟
واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو سزا سنائے جانے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔
ثاقب نثار کے دور میں ہونے والے کچھ متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے ان پر تنقید کی جاتی ہے۔












