لیبیئن طیارہ حادثہ: کاک پٹ وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز بازیاب

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکی میں سرچ ٹیموں نے بدھ کو حادثے کا شکار ہونے والا لیبیئن طیارے کا کاک پٹ وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز بازیاب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف محمد الحداد ساتھیوں سمیت جاں بحق

حادثے میں لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحدّاد سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ نجی طیارہ، جس میں جنرل الحدّاد، 4 دیگر فوجی اہلکار اور 3 عملے کے ارکان سوار تھے، منگل کو ترکی کے دارالخلافے انقرہ سے روانہ ہوا تھا اور حادثے کا شکار ہو کر زمین سے تقریباً 40 منٹ بعد ریڈار سے غائب ہو گیا۔

ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلکایا نے تباہ شدہ طیارے سے ریکارڈرز کی بازیابی کے بارے میں میڈیا کو بتایا۔

دوسری جانب لیبیا کے حکام نے بتایا کہ حادثے کی بنیادی وجہ طیارے میں تکنیکی خرابی تھی۔

فوجی قیادت اور لیبیا کی ردعمل

حادثے میں ہلاک ہونے والے دیگر فوجی افسران میں گراؤنڈ فورس کے سربراہ جنرل الفیتوری غریبّل، فوجی مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل محمود القتاوی، چیف آف اسٹاف کے مشیر محمد الاساوی دیاب اور چیف آف اسٹاف کے دفتر کے فوجی فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب شامل تھے۔

طیارے کے عملے کے 3 افراد کی شناخت فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیے: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا لیبیا کا سرکاری دورہ، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدیباہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے المناک حادثہ اور لیبیا کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے عبدالحمید سے فون پر گفتگو کی، تعزیت پیش کی اور افسوس کا اظہار کیا۔ ایردوان نے بعد میں ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے بھی لیبیا کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی۔

حادثے کی تحقیقات اور حالات

طیارے کے ریکارڈز کے مطابق یہ فالکن 50 قسم کا بزنس جیٹ تھا جو شام 8:30 بجے انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ طیارے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو برقی خرابی کے بارے میں اطلاع دی اور ایمرجنسی لینڈنگ کی درخواست کی۔ تاہم طیارہ لینڈنگ کے دوران ریڈار سے غائب ہو گیا۔

حادثے کا ملبہ تقریباً 3 مربع کلومیٹر کے علاقے میں بکھرا ہوا ملا جس سے بازیابی کے کام میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ ترکی کے فورنسک میڈیسن حکام اور 408 افراد پر مشتمل سرچ ٹیمیں حادثے کی جگہ پر کام کر رہی ہیں۔ ترکی نے تحقیقات کے لیے 4 پراسیکیوٹرز مقرر کیے ہیں۔

حادثے کے مقام کے قریب کسیککاواک گاؤں، حایمنا ضلع میں ریسکیو ٹیموں نے بدھ کو بھی بارش اور دھند کے باوجود کام جاری رکھا۔ ہنگامی صورتحال کے لیے خصوصی گاڑیاں اور موبائل کوآرڈینیشن سنٹر تعینات کیے گئے۔

لیبیا اور ترکی کے تعلقات

حادثے کے وقت لیبیا کا اعلیٰ وفد دفاعی مذاکرات کے بعد واپس جا رہا تھا پر تھا۔ جنرل الحدّاد مغربی لیبیا کے فوجی کمانڈر تھے اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی فوجی یکجہتی کے منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

ترکی اور لیبیا کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں پیشرفت ہوئی ہے اور ترکی نے لیبیا میں ترک فوجیوں کے مینڈیٹ کو 2 سال کے لیے بڑھانے کی منظوری بھی دی ہے۔

مزید پڑھیں: لیبیا میں پھنسے 309 بنگلہ دیشی شہری وطن واپس پہنچ گئے

لیبیا حکومت نے 3 دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جس کے دوران تمام سرکاری اداروں پر پرچم سرنگوں رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف

وی چیلنج: خواتین نے دلچسپ سوالات کے جوابات دے کر جیتے بیش قیمت انعامات

بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں خواتین کا استعمال، سیکیورٹی اداروں کا نیٹ ورک پر کاری وار

بین المذاہب ہم آہنگی اور ابراہیمی معاہدہ

کیا عید پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے؟

ویڈیو

وی چیلنج: خواتین نے دلچسپ سوالات کے جوابات دے کر جیتے بیش قیمت انعامات

پشاور کے مہندی آرٹسٹ محمد حنان علی جن سے خواتین بخوشی حنا لگواتی ہیں

اصل غربت دل کی ہوتی ہے، دل تنگ ہو تو دولت بھی بے کار ہے

کالم / تجزیہ

بین المذاہب ہم آہنگی اور ابراہیمی معاہدہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے