سعودی عرب نے یمن کے جنوبی صوبوں حضرموت اور المہرہ میں حالیہ عسکری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات صدارتی قیادت کونسل یا یمنی حکومت کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کے بغیر کیے گئے، جو کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں اور یمنی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مملکت نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ضبط و تحمل سے کام لیں اور تعاون کو فروغ دیں۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی پارلیمنٹ کی منظوری، سعودی عرب اور یورپی یونین کے تعلقات میں نئی شراکت داری کی راہ ہموار
سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مملکت نے گزشتہ عرصے میں صفِ اتحاد کو مضبوط رکھنے اور دونوں صوبوں میں پر امن حل کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اسی تناظر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ طور پر صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ عسکری ٹیم بھیجنے پر اتفاق کیا، تاکہ جنوبی عبوری کونسل کی افواج کو عدن میں اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس لایا جائے اور عسکری یونٹس کو منظم طور پر مقامی حکام کے حوالے کیا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب اب بھی حالات کی بحالی کے لیے جاری کوششوں پر قائم ہے اور توقع رکھتا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل فوری طور پر کشیدگی ختم کرتے ہوئے اپنی افواج صوبوں سے واپس بلائے گی۔ مملکت نے تمام یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، تعاون کو فروغ دیں اور سلامتی و استحکام کو یقینی بنائیں۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ جنوبی مسئلہ ایک منصفانہ اور تاریخی نوعیت کا معاملہ ہے جس کا حل صرف جامع سیاسی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، اور اس ضمن میں وہ یمن میں امن، استحکام، ترقی اور سلامتی کے لیے صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔














