چین اور پاکستان کے حکام نے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم (ووکیشنل ایجوکیشن) کے فروغ کے لیے تعاون کی ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد مختلف صنعتوں کی ضروریات کو مہارت پر مبنی تربیت کے ساتھ جوڑنا ہے۔
پاکستانی سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق، یہ معاہدے اس ہفتے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہونے والے چین اور پاکستان کے درمیان ووکیشنل تعلیم میں صنعت اور تعلیم کے انضمام پر بین الاقوامی تعاون و تبادلے کے سیمینار کے موقع پر طے پائے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 21 تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے جبکہ 5 مشترکہ تعاون پلیٹ فارمز کا بھی افتتاح کیا گیا۔ ان معاہدوں اور پلیٹ فارمز میں پیشہ ورانہ معیارات، مشترکہ تدریسی وسائل، اساتذہ اور نصاب کی تیاری، اور صنعت سے منسلک تربیتی مراکز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بیرون ملک جانے والے محنت کشوں کے لیے سافٹ اسکلز ٹریننگ، کیا حکومت کی پالیسی ناکام ہو رہی ہے؟
پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووکیشنل تعلیم میں وہ صلاحیت موجود ہے جو نوجوانوں کے خوابوں کو روزگار، ہنر اور عملی مواقع میں بدل سکتی ہے۔
اے پی پی کے مطابق، پروفیشنل اسٹینڈرڈز اور بین الاقوامی تدریسی وسائل کے ڈیٹا بیس کے تحت کئی شعبوں میں مشترکہ معیارات اور تعلیمی مواد تیار کرنے پر اتفاق ہوا۔ ان شعبوں میں کُلنری آرٹس اور نیوٹریشن، فیشن اور ملبوسات کا ڈیزائن، خوراک کی جانچ اور معیار، سپلائی چین آپریشن، فائن کیمیکل ٹیکنالوجی، جدید زرعی پیداوار اور انفارمیشن سیکیورٹی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
اس تقریب میں پاکستان کی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور صوبائی فنی تربیتی اداروں نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے بلوچ نوجوانوں کے لئے بیرون ملک روزگار کا نیا پروگرام، کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
ووکیشنل تعلیم سے متعلق معاہدوں کے دوسرے مرحلے میں مختلف ترجیحی شعبوں کے مطابق ورکشاپس اور کالجز قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ان میں کُلنری ٹریننگ کے لیے سائشنگ ورکشاپ اور چین پاکستان آٹوموٹو اوورسیز ورکشاپ برائے نیو انرجی وہیکل ٹیکنالوجی شامل ہے، جس میں ہنان آٹوموٹو انجینئرنگ ووکیشنل یونیورسٹی، NAVTTC اور ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان لمیٹڈ شریک ہیں۔
ماہرین کے مطابق نوجوانوں کو ہنر مند بنانے والی فنی تعلیم پاکستان جیسے ملک کے لیے نہایت اہم ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ حکومت پاکستان بھی اپنی افرادی قوت کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق تربیت دے کر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ کرنے کی خواہاں ہے۔














