فلسطین کے 168 ڈاکٹروں نے غزہ کے سب سے بڑے اسپتال، الشفا میڈیکل کمپلیکس کی تباہ شدہ عمارت کے سامنے اپنی اعلیٰ میڈیکل سرٹیفیکیشن مکمل کی۔ یہ تقریب جمعرات کو منعقد ہوئی اور اس موقع پر ڈاکٹروں نے خود کو ‘ہیومینٹی کوہرٹ’ قرار دیا۔
ڈاکٹرز نے 2 سال تک مسلسل کام کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی، جبکہ غزہ کے اسپتالوں میں بھوک، نقل مکانی اور اسرائیلی جارحیت کے درمیان مریضوں کی خدمت کرتے رہے۔ کچھ ڈاکٹرز زخمی، گرفتار یا ان کے اہل خانہ ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ جنگ نے اسرائیل کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا، بیشتر اسرائیلی اپنی ریاست سے مایوس
الشفا کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ اسرائیل صحت کی سہولیات پر حملے کرکے فلسطین کی انسانی صلاحیت کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن وہ ناکام رہا۔
گریجویشن کے موقع پر ایسے خالی کرسیوں پر تصاویر رکھیں گئی جو جنگ میں ہلاک ہونے والے صحت کے کارکنوں کی یادگار تھیں۔ ایک گریجویٹ نے کہا کہ تباہ شدہ عمارت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ثابت کرتا ہے کہ فلسطینی زندگی سے محبت کرتے ہیں اور سائنسی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بیت اللحم اور غزہ میں جنگ کے بعد پہلی کرسمس، امید کی شمع جلائی گئی
الشفا میڈیکل کمپلیکس پر اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ نومبر 2023 میں ڈاکٹر ابو سلمیہ گرفتار ہوئے اور 7 ماہ تک حراست میں رہے۔ مارچ 2024 میں اسپتال کو شدید نقصان پہنچا۔
اسپتال جزوی طور پر مرمت شدہ ہے، مگر زیادہ تر اب بھی ملبے میں ہے۔ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے اب صرف 18 جزوی طور پر فعال ہیں، جبکہ 3 فیلڈ اسپتال شدید پابندیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ 18,500 سے زائد مریضوں، جن میں 4,000 بچے شامل ہیں، کو طبی امداد کی ضرورت ہے جو دستیاب نہیں ہے۔














