ہنگری کے خلا بازوں اور مشن اسپیشلسٹ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ایک تجربہ کیا جس کے نتیجے میں ریاضی میں ایک حیران کن دریافت سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
اس سال کے اوائل میں ہنگری کے خلا بازوں اور مشن اسپیشلسٹ ٹیبور کاپو نے آئی ایس ایس پر ایک تجربہ کیا جس سے ایک نئی جیومیٹرک شکل سامنے آیا جو زمین پر بنانا ممکن نہیں۔
اس نئی دریافت شدہ شکل کو ’سوفٹ سیل‘ کا نام دیا گیا ہے جو پہلے محض نظریے میں موجود تھی اور صرف مائیکروگریویٹی میں تشکیل پاتی ہے۔
سوفٹ سیل کی دریافت آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریاضیاتی ادارے اور بڈاپیسٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اکنامکس کے تعاون سے کی گئی۔ یہ شکل سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
اس شکل کی خاص بات یہ ہے کہ عام ہندسی اشکال جیسے کیوب یا پریزم کے برعکس اس کے کنارے اندر کی جانب خم دار ہیں بالکل گھوڑے کے زین کی طرح۔
ایکزیئم 4 مشن کے دوران خلا بازوں نے سوفٹ سیل کا فریم بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پانی سے بھرا اور اسے حقیقی زندگی میں تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے۔
مزید پڑھیے: ناسا زندگی کے آثار تلاش کے لیے 20 سیاروں پر منی ٹیلی اسکوپ بھیجے گی
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق سوفٹ سیل تجربہ، جو بنیادی طور پر ہائی اسکول کے طلبا کے لیے تصوراتی مظاہرے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، ایک شاندار کامیابی ثابت ہوا۔ مائیکروگریویٹی نے فلوئڈ ڈائنامکس میں ایسے مظاہر پیدا کیے جو زمین پر ممکن نہیں تھے۔
آئی ایس ایس کے کمانڈر تاکویا اونیشی نے اس تجربے کو دیکھ کر اسے سائنس کی فنکاری قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ’ایلین خلائی جہاز‘: پراسرار شے ناسا کے اسپیس شپ کے نزدیک پہنچ گئی
واضح رہے کہ زمین پر کشش ثقل اتنی مضبوط ہے کہ پانی یا مائع ہمیشہ نیچے کی طرف کھنچتا ہے لیکن خلا میں وہ آزاد رہتا ہے اور سوفٹ سیل جیسی شکل بنا لیتا ہے۔













