باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ کے حیران کن طور پر 2 دن میں اختتام کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کو ہونے والے مالی نقصان کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیسرے اور چوتھے دن کے ٹکٹوں سے تقریباً 10 ملین ڈالر آمدن متوقع تھی، تاہم میچ دوسرے ہی روز ختم ہونے کے باعث یہ رقم ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ 90 ہزار سے زائد شائقین کو تیسرے روز کے ٹکٹوں کی رقم واپس کی جائے گی۔ متعدد شائقین نے چوتھے روز کے لیے بھی ٹکٹ خرید رکھے تھے۔ تمام متاثرہ شائقین کو خودکار نظام کے تحت ٹکٹوں کی رقم ریفنڈ کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے ایشز، چوتھا ٹیسٹ: انگلینڈ کی آسٹریلیا کو 15 سال بعد حیران کن شکست
رپورٹس کے مطابق باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے تیسرے روز 90 ہزار شائقین کی آمد متوقع تھی، جو میچ کی جلد اختتامی کے باعث ممکن نہ ہو سکی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پرتھ ٹیسٹ بھی 2 دن میں ختم ہوا تھا، جس کے باعث میزبان بورڈ کو 4 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
شائقین کی ریکارڈ حاضری کے باوجود نقصان
اگرچہ میچ جلد ختم ہو گیا، تاہم شائقین کی حاضری کے حوالے سے ریکارڈ بھی قائم ہوا۔ ایم سی جی ٹیسٹ کے پہلے روز 94 ہزار 199 شائقین اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ دوسرے روز 92 ہزار 45 شائقین نے میچ دیکھا۔
یہ بھی پڑھیے باکسنگ ڈے ٹیسٹ، اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی ریکارڈ تعداد، انگلینڈ کے باؤلرز چھا گئے
دوسرے روز انگلینڈ نے 4 وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے میچ اپنے نام کیا، جس کے ساتھ ہی ٹیسٹ میچ کا اختتام ہو گیا۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق میچ کا اس قدر جلد ختم ہونا نہ صرف شائقین کے لیے مایوس کن رہا بلکہ آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ کے لیے بھی بڑا مالی دھچکا ثابت ہوا ہے۔














