صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بسنت کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کے اندر صرف 3 دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بسنت ایک تہوار ہے اور اسے مکمل طور پر فیسٹیول کے انداز میں ہی منایا جائے گا، تاہم اس دوران سخت ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق حکومت نے ڈور بنانے والے مینوفیکچررز کو اجازت دے دی ہے کہ وہ مقررہ معیار کے مطابق ڈور تیار کریں گے، جبکہ پتنگوں کے سائز کے حوالے سے بھی واضح حد مقرر کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بسنت منانے کی تیاریاں، پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025 قائمہ کمیٹی سے منظور
وزیر کے مطابق مقررہ سائز سے بڑی پتنگ تیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ اور ڈور صرف مخصوص پوائنٹس پر دستیاب ہوں گی اور ہر جگہ فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ حکام سے باقاعدہ پلان طلب کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ان تین دنوں کے دوران موٹر سائیکلوں کا کم سے کم استعمال کریں، جبکہ بعض علاقوں میں موٹر سائیکل کے داخلے پر مکمل پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی
انہوں نے مزید کہا کہ بسنت کے موقع پر تعطیل کے حوالے سے فیصلہ بھی جلد کیا جائے گا۔ عظمیٰ بخاری نے خبردار کیا کہ جو افراد قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے ان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر کوئی بچہ پتنگ اڑاتا پایا گیا تو اس کے والدین ذمہ دار ہوں گے۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی کی صورت میں 5 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہری ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے بسنت کو خیر خیریت سے منائیں گے، تاکہ آئندہ برس پورے پنجاب میں بسنت منانے کی اجازت دی جا سکے۔














