وفاقی دارالحکومت میں بغیر ای ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے انتظامات مکمل

اتوار 28 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بغیر ای ٹیگ گاڑیوں کے خلاف عنقریب قانونی کارروائی کے لیے انتظامات مکمل کیے جاچکے ہیں۔

اس سے قبل اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کے لیے ہر گاڑی پر ای ٹیگ  کو ناگزیر قرار دے دیا گیا تھا۔ شہریوں کی سہولت کے لیے مختلف علاقوں میں قائم 16 ای ٹیگ پوائنٹس مکمل طور پر فعال کر دیے گئے تھے جو بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے کیا اسلام آباد داخلے کے لیے موٹر سائیکلز کو بھی ای ٹیگ کی ضرورت ہوگی؟

حکام کے مطابق 14 نومبر سے اب تک مجموعی طور پر 95 ہزار 369 گاڑیوں پر ای ٹیگ چسپاں کیے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1,235 گاڑیوں کو ای ٹیگ سسٹم فراہم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے  گاڑیوں پر ای ٹیگز، ایم ٹیگز لگانا اور شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا کیوں ضروری؟ وزیراطلاعات نے بتا دیا

واضح رہے کہ شہر کے تمام انٹری پوائنٹس اور مختلف ناکہ جات پر ای ٹیگ ریڈرز کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے، جن کے فعال ہوتے ہی بغیر ای ٹیگ گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی

مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

کراچی اوپن اسکواش: پہلا دن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہا

آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

ویڈیو

ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب

خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟