ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا اس سے کہیں زیادہ فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اور کہا کہ مسلح افواج دشمنوں اور ان کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ہفتے کے روز دفترِ تحفظ و اشاعتِ آثارِ رہبرِ انقلاب اسلامی کی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پزشکیان نے داخلی امور کے ساتھ ساتھ ایران مخالف بیانات اور پروپیگنڈے پر بھی کھل کر بات کی۔
امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ ایرانی افواج اسلحے اور افرادی قوت کے لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں، تاکہ کسی بھی شرپسندانہ اقدام کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ایرانی صدر پزشکیان کا دورہ پاکستان، سی پیک میں شمولیت، تجارتی ہدف بڑھانے کی خواہش ظاہر کردی
صدر پزشکیان نے ایک بار پھر قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے عوام کا متحد رہنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا:
’اگر ہم سب ایک ساتھ اور متحد رہیں تو دشمن ہمارے ملک پر حملے کا سوچنے کی بھی جرات نہیں کرے گا۔‘
انہوں نے جون میں ایران کے خلاف ہونے والی 12 روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت کے دوران قوم کے اتحاد اور یکجہتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں حکومتی امور معمول کے مطابق چلتے رہے اور عوام و حکام کے درمیان مکمل تعاون اور ہم آہنگی موجود تھی۔
ایران کو کمزور دکھانے کے لیے کی جانے والی نفسیاتی جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ دشمنوں کی میڈیا مہمات کسی نتیجے تک نہیں پہنچیں گی۔
’وہ اپنی خیالی دنیا میں رہیں، انہوں نے ہمیں اسی غلط فہمی کے تحت نشانہ بنایا، مگر اس کا نتیجہ اندرونی اتحاد میں اضافے کی صورت میں نکلا۔‘
انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’کوئی طاقت اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی جو متحد ہو‘۔
یہ بھی پڑھیے جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ دوبارہ تعمیر کریں گے، ایرانی صدر کا اعلان
صدر نے کہا کہ ان کے نزدیک کسی بھی فوجی طاقت سے بڑھ کر اہم چیز قومی اتحاد، اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا اور مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔
صدر پزشکیان نے ملکی معیشت، آئندہ سال کے بجٹ اور عوام کو درپیش مالی مشکلات پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے 20 نکاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو مختلف معاشی کمیٹیوں اور اداروں کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ کرنسی، اشیائے ضروریہ، مہنگائی اور دیگر متعلقہ مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کیا جا سکے۔
ایرانی صدر کا 20 نکاتی معاشی منصوبہ کیا ہے؟
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے معاشی منصوبے کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
یہ منصوبہ بنیادی طور پر عوامی زندگی میں بہتری، مہنگائی پر قابو اور معاشی استحکام کے گرد گھومتا ہے۔
1. مہنگائی میں کمی
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا، غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنا۔
2. کرنسی (ریال) کی قدر میں استحکام
زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے یقینی ختم کرنا، غیر ضروری قیاس آرائیوں (Speculation) پر قابو پانا۔
3. اشیائے ضروریہ کی فراہمی
خوراک، ادویات اور ایندھن کی دستیابی یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف کارروائی۔
4. عوامی آمدن میں بہتری
تنخواہوں اور اجرتوں میں حقیقت پسندانہ توازن قائم کرنا اور کم آمدن والے طبقات کے لیے ریلیف۔
5. سماجی تحفظ کے پروگرام
سبسڈی کو ہدف (Targeted) بنانا، مستحق خاندانوں کی براہِ راست مدد
6. بجٹ اصلاحات
غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، وسائل کا بہتر اور شفاف استعمال۔
7. داخلی پیداوار کا فروغ
مقامی صنعتوں اور زراعت کی حوصلہ افزائی، درآمدات پر انحصار کم کرنا۔
8. روزگار کے مواقع
نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی مدد۔
9. بین الادارہ جاتی ہم آہنگی
مختلف معاشی اداروں اور کمیٹیوں کے درمیان تعاون، پالیسی میں تضادات ختم کرنا۔
10. شفافیت اور احتساب
مالی بدعنوانی کے خلاف اقدامات، عوامی اعتماد کی بحالی۔














