یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف اسلامی شعائر کی توہین کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت کے موقع پر سٹی کورٹ کراچی میں کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں ان کی آمد پر دھکم پیل اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔
صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ دھکم پیل کے دوران رجب بٹ کے کپڑے بھی پھٹ گئے، واقعے کے دوران رجب بٹ کے وکلا نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور انہیں محفوظ طریقے سے عدالت کے احاطے سے نکالا۔
یہ بھی پڑھیں: ناقابل ضمانت وارنٹ کے بعد سرنڈر، رجب بٹ عدالت پہنچ گئے
https://Twitter.com/WENewsPk/status/2005521531594768715?s=20
رجب بٹ کے خلاف تھانہ حیدری میں توہین مذہب اور اسلامی شعائر کی توہین کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے، جس میں وہ پہلے ہی عبوری ضمانت پر ہیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں رجب بٹ کی درخواست ضمانت پر سماعت مقرر تھی، تاہم عدالت نے بغیر کسی کارروائی کے رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا، جبکہ آئندہ تاریخ پر درخواست ضمانت پر تفصیلی دلائل سنے جائیں گے۔
یوٹیوبر پر تشدد کس نے کیا؟
ضمانت میں توسیع کے لیے وہ اپنے دوست ندیم نانی والا کے ہمراہ سٹی کورٹ کراچی پہنچےجہاں ان کی وکلا ٹیم بھی موجود تھی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق رجب بٹ سٹی کورٹ آئے تو عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے تھے لیکن ان کے ساتھ آج وہ ہوا جو شاید انہیں کبھی بھول نہ پائیں۔
مزید پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کا بگ برادر کون ہے؟
عدالتی ذرائع کے مطابق وکلا کی بڑی تعداد نے رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اگر ایسا کہا جائے کہ رجب بٹ کو فٹبال بنایا گیا تو غلط نہ ہو گا اس دوران رجب بٹ کے کپڑے پھٹ چکے تھے اور ان کا خون بھی بہا۔
During a court appearance in a blasphemy case in Karachi, lawyers assaulted famous YouTuber #rajabbutt. In a video filmed by our colleague @ShahidHussainJM, the lawyers are seen clarifying that the YouTuber was attacked for allegedly insulting the dignity of the legal community.… pic.twitter.com/HZEtzzb9mP
— Naimat Khan (@NKMalazai) December 29, 2025
ذرائع کے مطابق وکلا نے اس دوران کسی کو ویڈیو بنانے نہیں دی، مارپیٹ کے بعد انہیں کراچی بار لے جایا گیا جہاں ان کا حلیہ درست کرکے پھر میڈیا کو اورعام افراد کو ویڈیو بنانے دی گئی۔
وکلا کے مطابق رجب بٹ پہلے تو توہین مذہب کا مرتکب ہوئے اس کے بعد انہوں نے وکلا کو کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ بھی دی۔
کراچی بار میں ہزاروں وکلا ہیں جو روزانہ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے پہلے یہ تو سوچا جائے کہ کسی ایک وکیل کو بھی اشتعال آیا تو نتیجہ پھر یہ نکلتا ہے۔














