سخاوت کی تاریخ رقم، ملازمین میں 240 ملین ڈالر بونس کی تقسیم

پیر 29 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک امریکی کاروباری شخصیت نے اپنی غیر معمولی سخاوت کے باعث دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، جب انہوں نے اپنی کمپنی کے تقریباً 540 ملازمین میں تقریباً 240 ملین ڈالر بطور بونس تقسیم کر دیے۔

فائبربونڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر گراہم واکرنے یہ رقم اس وقت تقسیم کی جب انہوں نے رواں سال کے آغاز میں الیکٹریکل آلات کے انکلوژرز بنانے والی اپنی کمپنی کو ایٹن کارپوریشن کو 1.7 ارب ڈالر میں فروخت کیا۔

یہ بھی پڑھیں: علم سے محبت کی مثال: امریکا میں لائبریری سے لی گئی کتاب 54 سال بعد واپس

اگرچہ فائبربونڈ کے ملازمین کے پاس کمپنی کے حصص نہیں تھے، تاہم گراہم واکر نے اس بات پر اصرار کیا کہ فروخت سے حاصل ہونے والا فائدہ براہِ راست ملازمین تک پہنچنا چاہیے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس وقت تک معاہدہ حتمی شکل دینے سے انکار کر دیا جب تک ممکنہ خریدار اس بات پر آمادہ نہ ہو گئے کہ فروخت کی رقم کا 15  فیصد ملازمین کے لیے مختص کیا جائے۔

جون میں بونس کی ادائیگی کا عمل شروع ہوا، جس کے تحت فی ملازم اوسطاً 4 لاکھ 43 ہزار ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم 5 سال کے عرصے میں مرحلہ وار ادا کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ڈیجیٹل گورننس میں نئی مثال، سعودی عرب نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

بونس کے اعلان پر ابتدا میں کئی ملازمین نے اسے مذاق سمجھا، تاہم بعد ازاں اس رقم کو قرضے اتارنے، گاڑیاں خریدنے، کالج کی فیس ادا کرنے اور ریٹائرمنٹ کے لیے سرمایہ کاری میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کی ایک پرانی ملازمہ لیسیا کی نے بونس ملنے پرشکرگزاری کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے 1995 میں 21 سال کی عمر میں فائبربونڈ میں ملازمت اختیار کی تھی اور مسلسل ترقی کرتے ہوئے رواں سال کے آغاز تک 18 افراد کی ٹیم کی سربراہی اور 254 ایکڑ پر پھیلے ادارے کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھال چکی تھیں۔

مزید پڑھیں: میٹا چیٹ بوٹ سے ملنے کی کوشش میں امریکی شہری کی ہلاکت

انہوں نے بتایا کہ کمپنی میں شمولیت کے وقت انہیں فی گھنٹہ صرف 5.35  ڈالر معاوضہ ملتا تھا۔ ’پہلے ہم تنخواہ سے تنخواہ تک زندگی گزارتے تھے، اب میں واقعی جی سکتی ہوں، میں شکر گزارہوں۔‘

اس سوال پر کہ کیا واکر خاندان نے ملازمین کو اس سے بھی زیادہ بونس دینے پر غور کیا تھا، گراہم واکر نے جواب دیا کہ تقریباً پونے ایک ارب ڈالر ملازمین کے ہاتھوں میں جانا ہمیں منصفانہ لگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی امریکی بہو: ’شادی کرکے شوہر کو امریکا لے جانے نہیں بلکہ پاکستان میں رہنے آئی ہوں‘

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے اس اقدام کو بے حد سراہا۔ ایک صارف نے لکھا کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ انہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں کتنی بڑی تبدیلی پیدا کی۔ یہی اصل زندگی ہے۔

ایک صارف نے اسے حیرت انگیز قرار دیا۔ ’عظیم انسان عظیم کام کرتے ہوئے، یہی دیکھنا اچھا لگتا ہے۔‘

ایک تیسرے صارف نے ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر ان کا باس ایسا کرے تو وہ دنیا کے سب سے خوش ملازم ہوں گے۔ ’وفاداری اور محنت کا اصل صلہ یہی ہے، عزت۔‘

رپورٹ کے مطابق فائبربونڈ کی بنیاد 1982 میں گراہم واکر کے والد کلاڈ واکر اور دیگر 11 افراد نے رکھی تھی، کمپنی نے دہائیوں کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کیا، جن میں 1998 میں فیکٹری میں لگنے والی آگ اور ڈاٹ کام ببل کے بحران شامل ہیں، تاہم ملازمین نے مشکل حالات میں بھی کمپنی سے وفاداری نبھائی۔

مزید پڑھیں: امریکا نے قطر کا 400 ملین ڈالر کا لگژری جیٹ تحفہ قبول کرلیا، نیا ایئر فورس ون بنے گا

بعد ازاں فائبربونڈ نے ڈیٹا سینٹرز کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو 2020 میں طلب بڑھنے کے ساتھ کامیاب ثابت ہوئی۔ اسی پیش رفت نے بالآخر کمپنی کی فروخت اور ملازمین کے لیے خطیر بونس کی راہ ہموار کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟