پاکستان اس وقت شدید سیاسی کشیدگی اور غیرمعمولی پولرائزیشن کے دور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی اختلافات اب معمول کی جمہوری بحث سے نکل کر تصادم، بداعتمادی اور محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج دن بدن وسیع ہو رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیاسی ماحول بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور قومی استحکام پر بھی واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ملک میں سیاسی تقسیم اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہر حکومتی فیصلہ، ہر عدالتی پیش رفت اور ہر عوامی ردعمل دو واضح متضاد بیانیوں میں بٹ جاتا ہے۔
ایک طرف حکومت اپنی پالیسیوں کو استحکام اور نظم و ضبط کے نام پر درست قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب عوام کا ایک بڑا طبقہ خود کو سیاسی طور پر بے اختیار، دیوار سے لگا ہوا اور مسلسل نظرانداز شدہ محسوس کرتا ہے۔ اس صورتحال میں سچ، انصاف اور قانون کے بجائے طاقت اور مفاد غالب دکھائی دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں برداشت اور مفاہمت کی روایت ہمیشہ کمزور رہی ہے، مگر موجودہ دور میں یہ کمزوری خطرناک حد تک نمایاں ہو چکی ہے۔ سیاسی مخالفین کو غدار، ملک دشمن یا انتشار پسند قرار دینا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
اس طرزِ سیاست نے نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ حکومتی ساکھ اور اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ جب قانون کا اطلاق یکساں نظر نہ آئے اور احتساب کا عمل انتخابی محسوس ہو تو عوام کا نظام پر یقین متزلزل ہونا فطری امر ہے۔
ملک پہلے ہی سنگین معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے۔ عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے اور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی مشکل سے پوری ہو رہی ہیں۔ مگر ان سب سے بڑا بحران اعتماد اور امید کا ہے۔
نوجوان نسل، جو کسی بھی ملک کا مستقبل سمجھی جاتی ہے، آج مایوسی، غصے اور بے یقینی کا شکار ہے۔ جب نوجوان یہ محسوس کریں کہ ان کے ووٹ، رائے اور خوابوں کی کوئی وقعت نہیں تو یہ صورتحال حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ بن جانی چاہیے۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو طاقت سے دبانے کے بجائے مکالمے اور برداشت کے ذریعے حل کرے۔ سخت اقدامات، پابندیاں اور مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کی کوششیں وقتی سکون تو فراہم کر سکتی ہیں، مگر دیرپا استحکام نہیں لا سکتیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، اتفاقِ رائے نہیں۔
ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی غیرجانبدارانہ عملداری اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی مخالفین کو دشمن کے بجائے اختلاف رکھنے والا فریق سمجھے اور قومی معاملات پر وسیع تر مشاورت کو فروغ دے۔ سیاست میں تلخی کم کیے بغیر نہ معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ہی معاشرہ سکون کا سانس لے سکتا ہے۔
یہ وقت ذاتی انا، ضد اور وقتی سیاسی فائدے سے بالاتر ہو کر سوچنے کا ہے۔ اگر موجودہ پولرائزیشن کو سنجیدگی سے کم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
حکومت، سیاست دانوں اور تمام ذمہ دار حلقوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قومی مفاد صرف مفاہمت، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہی پوشیدہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














