متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اتوار 28 دسمبر 2025 کو کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر ایک بار پھر سنگین الزامات لگائے اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے انکشافات کیے۔
مصطفیٰ کمال نے براہِ راست الزام عائد کیاکہ ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل بانی ایم کیو ایم کے حکم پر ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے نشے کی حالت میں عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین پر شدید تنقید، عمران فاروق کا قاتل قرار دے دیا
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی سالگرہ کے موقع پر انہیں تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ فاروق کی میت پاکستان لانے کے نام پر بھی لندن میں چندہ جمع کیا گیا، جو کہ افسوسناک ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ایک مداری کی طرح ہیں جو لاشوں پر آئٹم سانگ کرتے ہیں اور خود کو حکمران سمجھتے ہیں۔
اس پریس کانفرنس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ مصطفیٰ کمال الطاف حسین پر الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم پاکستان کی اہم قیادت نظر نہیں آرہی۔
ایسا محسوس ہوا جیسے پاک سر زمین پارٹی کی پریس کانفرنس ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایم کیو ایم پاکستان پر پاک سر زمین پارٹی جو اب ایم کیو کا حصہ ہے حاوی ہو رہی ہے؟
ایم کیو ایم کو اس معاملے پر اپنا مؤقف دینا چاہیے، ارمان صابر
اس حوالے سے تجزیہ کار و سینیئر صحافی ارمان صابر کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ مصطفیٰ کمال الطاف حسین پر الزامات لگا رہے ہیں، لیکن اس معاملہ پر ایم کیو ایم کو اپنا مؤقف دنیا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو سامنے آکر بتانا چاہیے، جبکہ فاروق ستار سمیت دیگر اہم رہنما ہیں وہ ان بیانات کے حوالے سے بات کریں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مطلب پارٹی کے اندر اختلافات موجود ہیں۔
ارمان صابر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ ایم کیو ایم اختلافات کا شکار ہے، پی ایس پی ایم کیو ایم میں ضم تو ہو گئی ہے لیکن آج بھی وہ اپنی الگ شناخت اور گروپ رکھتے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے تھے، سال سے زیادہ ہو گیا ان انتخابات کے لیے کمیٹی بنائی گئی تھی، لیکن ابھی تک انتخابات نہ ہونے کے کی وجہ اندرونی اختلافات ہیں۔
ارمان صابر کے مطابق تازہ ترین الزامات یا تو کسی ایجنڈے کا حصہ ہیں یا مصطفیٰ کمال کو بانی متحدہ کی واپسی کا کوئی چانس نظر آرہا ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ مصطفیٰ کمال کو شاید محسوس ہو رہا ہو کہ الطاف حسین سے بات چیت چل رہی ہے یا یہاں ان کے لیے گوشہ نرم ہو رہا ہے اور اسی راستے کو روکنے کے لیے شاید انہوں نے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ایم کیو ایم میں اختلافات اب کھل کر سامنے آرہے ہیں، فاروق سمیع
سینیئر صحافی محمد فاروق سمیع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر کے اختلافات اب کھل کر سامنے آرہے ہیں جس کا ذکر ہم پہلےکئی بار کرتے چلے آرہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر سے سب سے پہلے یہ آواز اٹھی تھی کہ پی ایس پی کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے، یہ سب سے پہلا اختلاف تھا اور اب صورت حال یہ ہے کہ خالد مقبول صدیقی گروپ اور مصطفیٰ کمال گروپ کچھ عرصہ بعد آمنے سامنے ہوتے ہیں، اس وقت پارٹی کی باگ ڈور کی جنگ ہے اور یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ کون سا دھڑا حاوی ہے۔
محمد فاروق سمیع کے مطابق سوائے مصطفیٰ کمال کے ایم کیو ایم کی جانب سے کھل کر تنقید یا الزامات الطاف حسین پر کوئی نہیں لگاتا۔
انہوں نے کہاکہ عمران فاروق کے قتل میں الطاف حسین نے مصطفیٰ کمال کو ملوث قرار دیا ہے، اس وقت ایم کیو ایم عوامی مقبولیت کھو چکی ہے، جو تھوڑی بہت ہے وہ آپس کے اختلافات کی نذر ہو جائے گی۔
’الطاف حسین کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل مصطفیٰ کمال ہیں‘
دوسری جانب ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ سارا عمران فاروق کی اہلیہ کی میت کو ایئرپورٹ پر لینے کا ہے جہاں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار تو پہنچ گئے لیکن مصطفیٰ کمال کو شاید محسوس ہوا ہے کہ وہ پیچھے رہ گئے ہیں، دوسرا یہ کہ الطاف حسین نے عمران فاروق کے قتل کا ذمہ دار مصطفیٰ کمال کو ٹھہرایا ہے یہ اس بات کا بھی رد عمل ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے بانی رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ لندن میں انتقال کرگئیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الطاف حسین اور مصطفیٰ کمال کا ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا تسلسل ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم بطور جماعت اس معاملے میں مداخلت نہیں کررہی، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ الطاف حسین سے علیحدگی کے باوجود خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار سمیت دیگر قیادت ان کے خلاف سخت زبان استعمال نہیں کرتی۔
’ڈاکٹر فاروق ستار، خوجہ اظہار اور حیدر عباس رضوی سمیت دیگر رہنما کئی بار کہہ چکے کہ جب الطاف حسین نے معافی مانگ لی ہے تو معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔‘














