وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب سہیل آفریدی کا دورہ لاہور تمام ہوا، سوال مگر یہ ہے کہ اس دورے کا مقصد کیا تھا؟
ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ کا آئینی حق ہے، وہ ملک میں جہاں چاہے جائے۔ یہ دلیل درست نہیں ہے۔ یہ خلط مبحث ہے۔
بات اگر صرف سہیل آفریدی صاحب کی ہوتی جو اپنے خرچے پر لاہور دیکھنے گئے ہوتے تو کہا جا سکتا تھا یہ ان کا حق ہے۔ وہ چڑیا گھر کی سیر کریں یا لاہور کی روشنیاں دیکھیں اور لطف اندوز ہوں۔ لیکن جب یہی سہیل آفریدی صوبے کے وزیر اعلیٰ کے طور پر، اپنے صوبے کے معاملات چھوڑ کر، سرکاری خرچے پر، پروٹوکول اور سکواڈ کے سائے میں، وزرا کو ساتھ لے کر، ایک قافلے کی شکل میں لاہور کی طرف چل پڑیں تو اس سفرِ عشق کو وزیر اعلیٰ کا حق قرار دے کر بات گھما دینا ممکن نہیں رہتا۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کا مقصد کیا تھا؟
حکمران کا کام سرکاری خرچ پر اپنے حقوق سے لطف اندوز ہونا نہیں۔ حکمرانی حقوق اور فرائض کے درمیان ایک ایسے تناسب کا نام ہے جس میں فرائض کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نہ ہوا درویش کا تصرف ہو گیا، بغیر کسی کام کے، بغیر کسی مقصد کے سرکاری وسائل کو چولہے میں جھونکتے ہوئے لاہور جا پہنچا۔
وزرائے اعلیٰ پہلے بھی اپنے صوبے سے دوسرے صوبے میں جاتے ہیں لیکن عزت کے ساتھ۔ کسی ضابطے کے تحت۔ میزبان حکومت کو اطلاع دے کر۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وزیر اعلیٰ صاحب لاؤ لشکر لے کر دوسرے صوبے کو روانہ ہو جائیں جیسے 4 براعظموں کا سلطان اب پانچویں بر اعظم پر یلغار کرنے نکلا ہو۔
سفر کے آغاز میں، بانکے میاں کے ترجمان نے بتایا کہ وہ محسن نقوی کرنے لاہور جا رہے ہیں۔ انداز گفتگو دیکھیے، یہ وہ لوگ ہیں جو اس صدی کے آخری باشعور گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آگے سے کوئی پوچھ لیتا کہ باقی کے وزرا کیا کے پی میں عمران خان کرنے چھوڑ آئے ہو تو پھر یہ دہائی دیتے کہ ہماری میزبانی کے تقاضے درست طریقے سے پورے نہیں فرمائے گئے۔
معزز مہمانان جس انداز سے لاہور پنجاب اسمبلی تشریف لے گئے اور جس رویے کا مظاہرہ کیا، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا یہ رویہ کسی سیاست دان کو زیبا ہے۔ ایک صحافی کے غلط سوال پر ان کے وزیر محترم نے جو زبان استعمال کی، اور پھر بعد میں ان کے وابستگان نے جس طرح اس حرکت کا دفاع کیا اور لسانیت اور قومیت کا کارڈ استعمال کیا، وہ بتا رہا ہے کہ تحریک انصاف ایک سیاسی نہیں، سماجی، اخلاقی اور تہذیبی المیہ بنتی جا رہی ہے۔
ایسا کب ہوا کہ ایک وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جائے اور وہاں کی انتطامیہ کو بتائے بغیر اور اعتماد میں لیے بغیر اعلان کر دے کہ اتنے بجے میں فلاں مارکیٹ جا کر کافی پیوں گا۔ سیکیورٹی کی حالت ہمارے سامنے ہے۔ اعلان کر کے ایک جگہ جانا کیا سیکیورٹی کے تقاضوں کی پامالی نہیں؟ وہاں کچھ ہو جائے تو ذمہ دار کون ہو؟
معلوم یہ ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے، سرکاری حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب سے اپنی اس اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کرنا چاہا جس کا وہ بار بار اعلان کر رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا، قانون کے دائرے میں رہ کر مکمل حق ہوتا ہے لیکن کیا ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جا کر اس طرح کی احتجاجی سرگرمی کا حصہ بن سکتا ہے؟
احتجاج کرنا ہے تو اس کے لیے پنجاب میں تحریک انصاف موجود ہے۔ اسٹریٹ موومنٹ کی شروعات کے لیے ماحول بنانے کے لیے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی دوسرے صوبے پر یلغار کہاں پارلیمانی روایت ہے؟
تو کیا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم احتجاج کے قابل صرف اس وقت ہوتے ہیں جب ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہوتے ہیں یا جب عدلیہ میں ہمیں گڈ ٹو سی یو کہنے والے موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی تو پھر ہم اسٹریٹ موومنٹ کا ماحول بنانے کے لیے دوسرے صوبے سے وزیر اعلیٰ بلا بھیجتے ہیں کیونکہ اسے گرفتاری کا ڈر نہیں ہوتا۔
وزیر اعلیٰ صاحب نے قوم کی یہ رہنمائی تو فرمائی کہ اگرچہ لاہور میں بہت ڈیولپمنٹ ہوئی لیکن سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قومیں کیسے بنتی ہیں؟ روز تماشا لگانے سے؟
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاہور میں ترقی ہوئی ہے تو قوم کے پیسوں سے ہوئی ہے کون سا حکوت نے اپنی جیب سے پیسے لگائے ہیں لیکن وہ یہ نہ بتا سکے کہ پشاور سے لاہور تک عشق عمران کا یہ سفر کس کے پیسے سے ہوا ہے؟ یہ سرکاری پروٹوکول، یہ دندناتی گاڑیاں سب کچھ یہ کس کا پیسہ تھا؟
کارکردگی کا سوال ہوا تو صاحب نے مسکرا کر فرمایا ہمارے لوگ ہم سے کارکردگی کا نہیں صرف عمران خان کا سوال پوچھتے ہیں۔ یہ جواب بتا رہا ہے کہ ان کی فکری استعداد کس حد تک پست ہے۔ انہیں سیاست اور معاشرت کے بنیادی تقاضوں کا ہی علم نہیں۔ انہیں دیکھ کر آدمی سوچتا ہے جس موروثی سیاست کو ہم عشروں بُرا سمجھتے رہے وہ مورثی سیاست ہی غنیمت تھی۔ کم از کم ایسا اخلاقی زوال تو نہیں تھا۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ صرف تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ نہیں، پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ہو سکتا ہے تحریک انصاف کے لوگ ان سے کارکردگی کا سوال نہ ہوچھتے ہوں وہ صرف عمران خان کا سوال ہی پوچھتے ہوں لیکن باقی کے عوام؟ ان کا کیا بنے گا؟ کیا صوبے کے انتظامی سربراہ کو صرف ایک گروہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے یا حکومت میں آنے کے بعد پورا صوبہ اس کی ذمہ داری بن جاتا ہے؟
پوسٹ ٹروتھ کے ابلاغیے اب دہائی دے رہے ہیں کہ لاہور والے اچھے میزبان ثابت نہیں ہوئے۔ ان ابلاغیوں کو معلوم ہونا چاہیے مہمان بننے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













