چین نے بچوں کو اے آئی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے کمر کس لی

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے بچوں کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی کمپنیوں کے خلاف سخت نئے قوانین متعارف کرانے کی تجاویز مرتب کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہر معاملے میں مصنوعی ذہانت سے رجوع انسان کی ذہنی صلاحیت کس طرح متاثر کرتا ہے؟

بی بی سی کے مطابق مجوزہ قواعد کے تحت چیٹ بوٹس کو ایسا مواد فراہم کرنے سے روکا جائے گا جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہو یا تشدد کی طرف مائل کرے۔

چینی حکام کے مطابق اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے ماڈلز جوا یا دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو فروغ دینے والا مواد تیار نہ کریں۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور دنیا بھر میں چیٹ بوٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

چین کی سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ مسودہ قوانین کے مطابق اے آئی مصنوعات اور سروسز پر سخت نگرانی کی جائے گی۔

ان قوانین میں بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہیں جن کے تحت اے آئی کمپنیوں کو ذاتی نوعیت کی سیٹنگز، استعمال کے وقت کی حد اور جذباتی معاونت فراہم کرنے سے قبل سرپرست کی اجازت لینا ہوگی۔

مزید پڑھیے: کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟  

قواعد کے مطابق اگر کسی چیٹ بوٹ پر حساس نوعیت کی گفتگو سامنے آئے تو انسانی نمائندے کو فوراً مداخلت کرنا ہوگی اور صارف کے سرپرست یا متعلقہ ذمہ دار فرد کو اطلاع دینا لازم ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سروسز کو ایسا مواد تیار یا پھیلانے سے بھی روکا جائے گا جو قومی سلامتی، قومی وقار یا قومی یکجہتی کے خلاف ہو۔

سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن نے واضح کیا کہ حکومت محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے خاص طور پر ایسے منصوبے جو مقامی ثقافت کے فروغ یا بزرگوں کے لیے معاونت فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام سے مسودہ قوانین پر رائے بھی طلب کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی جبکہ 2 دیگر چینی اسٹارٹ اپس زیڈ اے آئی اور مینی میکس نے اسٹاک مارکیٹ میں فہرست ہونے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹائم میگزین نے مصنوعی ذہانت کے معماروں کو رواں سال کا ‘پرسن آف دی ایئر’ قرار دے دیا

ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے انسانی رویّوں پر اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر چین کا یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟