لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے 

بدھ 31 دسمبر 2025
author image

وسی بابا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسمارٹ فون، سوشل میڈیا، ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ زور پکڑ چکے تھے جب جنریشن زی پیدا ہوئی۔ اس زی جنریشن کے لیے ڈیجیٹل شناخت ہی اس کی اصل شناخت ہے۔ یہ آن لائن پڑھتے ہیں، ادھر کام ڈھونڈتے ہیں، یہیں دنگے کرتے ہیں اور ان کی محبتیں ادھر ہی پروان چڑھتی ہیں۔ ان کی انٹرٹینمنٹ اور بریک اپ بھی آن لائن ہی ہوتے ہیں۔ یہ حکومتوں کا جلوس بھی آن لائن نکالتے ہیں اور سیاست میں اپنی پسند ناپسند بھی یہیں ظاہر کرتے ہیں۔

زی جنریشن سوچتی کم اور دیکھتی زیادہ ہے، یہ سوچنے پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اسکرین پر مسئلے کا حل ڈھونڈ لیتی ہے۔ لمبی تحریر، گہرے فلسفے، بور کہانیوں کی بجائے شارٹ ویڈیو، مختصر جملے اور ون لائنر ان کو کک اسٹارٹ کرتے ہیں۔ یہ ایموجی کو اپنے جذبات کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خوش ہو کر دل والے لائیک کی بجائے یہ بتیسی دکھاتا ایموجی بھیجنا پسند کرتے ہیں۔

اس جنریشن کے کام کی فلاسفی بھی مختلف ہے۔ انہیں تیزرفتار ترقی چاہیے، ایک ہی پوزیشن پر اپنے وقت کا انتظار کرنا ان کا مزاج نہیں ہے۔ یہ کمانے پر فوکس ہیں، لانگ ٹرم منصوبے نہیں بناتے ایسے آئڈیاز پر کام کرتے ہیں جو ان کی آمدن جلد بڑھا سکیں۔ کام ان کے لیے شناخت کی بجائے کمائی کا ذریعہ ہے۔ جبکہ پرانے لوگ اپنے کام کو اپنی شناخت مانتے تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ایسے ہی ڈارلنگ نہیں بنا، محنتیں ہیں

جنریشن زی ڈپریشن، تھکاوٹ، موڈ اور ایسے مسائل کے حل کے لیے تھیراپی کرانے کو نارمل لیتی ہے۔ یہ ملٹی ٹاسکنگ ایک روٹین میں سہولت کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہیں، پوچھتے ہیں کہ تمہیں یہ اختیار کس نے دیا اور کیوں؟۔ ٹرانسپرینسی اور اکاؤنٹیبیلیٹی پر یہ جنریشن اصرار کرتی ہے۔ یہ جنریشن آن لائن فرینڈ شپ کو حقیقی زندگی کی دوستی کے برابر مانتی ہے۔

یہ جنریشن ایشو بیس پالیٹکس کرتی ہے، پارٹی بیسڈ سیاست سے فاصلے پر ہے۔ روایتی ووٹنگ پیٹرن، پارٹی وابستگی یا اداروں بلکہ ریاست تک سے وابستگی کا اس جنریشن کا خیال پرانی جنریشن سے مختلف ہے۔ پرانی جنریشن گلی محلے، برادری، شہرداری اور دیہی مزاج کے مطابق زندگی بسر کرتی تھی۔ یہ جنریشن نیٹ ورکنگ پر یقین رکھتی ہے۔ ان کی نیٹ ورکنگ علاقائی، ریاستی حدود کی قائل نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: سینٹرل ایشیا کے لینڈ لاک ملکوں کی پاکستان اور افغانستان سے جڑی ترقی

جنریشن زی کے بارے یہ پوائنٹ اگر مکمل نہیں بھی ہیں تو اک تصویر سی بنتی ہے جو بتاتی ہے کہ یہ جنریشن کیسے سوچتی ہے، ان کے کام کا انداز کیا ہے۔ جنریشن زی سے پہلی جنریشن بھی ابھی موجود ہیں جو فیصلہ سازی کے ٹاپ پوزیشن پر ہیں، مڈ کیریئر تک جنریشن زی کا ابھی وجود نہیں ہے۔

پاکستان میں یوتھ آبادی کا 60 فیصد کے اردگرد ہے۔ جنریشن زی کی ایک تعریف سنہ 1997 سے سنہ 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ہیں۔ ان کی عمر 13 سے 28 سال بنتی ہے۔ اعدادو شمار کو سائیڈ پر رکھیں تو بھی پاکستان جنریشن زی کی سب سے بڑی تعداد رکھنے والے ٹاپ کے ممالک میں آتا ہے۔

پرانی جنریشن جو فیملی، کلچر، مذہب اور پروفیشن کو اپنی شناخت کا حوالہ بناتی تھی۔  مشکل وقت کو برداشت کرنے اور صبر سے گزارنے پر یقین رکھتی تھی۔ وہ جنریشن اتھارٹی کو تسلیم کرتی تھی اور اکثر اس پر سوال نہیں اٹھاتی تھی۔ روایتی بڑوں کا احترام اعتراض کام کرتوت پوچھے بغیر کرتی تھی۔

پاکستان میں اعلیٰ ریاستی حکام کی، ممبران پارلیمنٹ کی، سیاسی مذہبی قیادت کی اوسط عمر نکالیں یہ 60 پلس ملیں گے۔ ان کی سوچ کا جنریشن زی سے کم از کم 3 جنریشن کا فاصلہ ہے۔ معیشت، خارجہ، داخلہ، انٹرٹینمنٹ، ترقی کی پالیسیوں میں جنریشن زی کی سوچ کہیں جھلکتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ الگ دنیاؤں کا معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کو آزاد کرنے کی بجائے کنٹرول بڑھایا جا رہا ہے، انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر ہونے کی بجائے بٹھائی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی تک رسائی امپورٹ کی وجہ سے مہنگی ہے تو اس کی مقامی پیداوار بارے کوئی سکیم ہی سامنے نہیں لائی جا رہی۔

کوئی سیاسی قائد ہو یا مذہبی راہنما وہ جنریشن زی کو دھیان میں لاتا ہی نہیں۔ انہیں اس کا بھی اندازہ نہیں کہ خود ان کے اپنے کارکنان آگے کہاں کہاں تک رسائی اور نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو یہ بھی اندازہ نہیں کہ ملک میں الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں کی تعداد کتنی بڑھ چکی ہے۔ ان خواہشمندوں کی تعداد بڑھانے میں جنریشن زی کا کیا کردار ہے۔ اس میں بارلے پاکستانی کتنے اہم ہیں اور ان کے اس جنریشن سے رابطے کیسے ہیں۔

مزید پڑھیں: سیٹھ، سیاسی کارکن اور یوتھ کو ساتھ لیں اور میلہ لگائیں

بیٹھی ہوئی معیشت، ہر طرف دکھائی دیتی شدت پسندی، سیاسی تقسیم اور بڑھتی مایوسی عام دکھائی دیتی ہے۔ اس سب کا اک آسان علاج اس جنریشن زی کو معاملات میں شمولیت کا احساس دلانے سے ہو گا۔ انہیں عہدے نہ دیں ان کے مسائل ان کی سوچ مطابق حل تو کریں۔ یہ جو اپنی کمائی، اپنے حال کو بہتر بنانے، اپنا نیٹ ورک کھڑا کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اتھارٹی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ ہی آپ کے ونڈر بوائے ہیں جن کو ریاست نے ساتھ چلا لیا تو یہ کرامتیں کر دکھائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلمان خان کا 12 سال پرانا ٹویٹ دوبارہ وائرل، پریتی زنٹا کا حیران کن ردعمل

ملک بھر میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست، فی یونٹ قیمت میں اضافے کی تجویز

صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر زور

پاکستان کی معروف خاتون سائیکلسٹ 28 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے فارن میڈیا ایکریڈیشن ہدایات جاری

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟