روس نے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی صدر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش دراصل یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر کی ثالثی کوششوں کو ناکام بنانے کی ایک کوشش تھی۔
مذکورہ واقعہ میں 91 کامیکاز ڈرونز ملوث تھے، جنہیں نووگوروڈ ریجن میں سرکاری عمارتوں تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایاگیا تھا، اس مبینہ حملے کی تفصیلات روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے فراہم کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائشگاہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، روس کا الزام
گزشتہ ہفتے کے آخر میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنیوالے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔
Ukraine's drone attack on Russian president's residence directed not only against Putin, but also against Trump's peace negotiation efforts — Kremlin spox Peskov pic.twitter.com/VYgIujdI7K
— BRICS+TODAY (@Afrijustice4all) December 30, 2025
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے منگل کے روز کہا کہ یہ مبینہ حملہ ’مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے دہشت گردی کی ایک کارروائی تھا، نہ کہ صرف صدر پیوٹن کو ذاتی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش‘۔
انہوں نے زیلنسکی کی متنازع کرسمس تقریر کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں یوکرینی صدر نے کہا تھا کہ ان سمیت ہر یوکرینی شہری کی کرسمس کی خواہش ’اس‘ کی موت ہے، جس سے مراد روسی صدر کو لیا گیا۔
مزید پڑھیں:روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
پیسکوف نے کہا کہ یہ حملہ صدر ٹرمپ اور یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے ان کی کوششوں کے خلاف تھا، ان کے مطابق صدر پیوٹن نے پیر کے روز ٹیلیفونک گفتگو میں اس واقعے سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا۔
ان کے مطابق، دونوں صدور کی گفتگو کے لہجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین کی اس مبینہ ’اشتعال انگیزی‘ سے امریکا اور روس کے دو طرفہ اعتماد کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔
مزید پڑھیں: یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوششیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر پیوٹن سے پھر ٹیلیفونک رابطہ
دیمتری پیسکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے خبر سننے کے بعد ’شدید غصے‘ کا اظہار کیا اور یاد دلایا کہ زیلنسکی نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک کروز میزائلوں کی درخواست کی تھی، جسے انہوں نے رواں سال کے اوائل میں مسترد کر دیا تھا۔
اس سے قبل صدر پیوٹن کے خارجہ امور کے معاون یوری اوشاکوف بھی کہہ چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کی فون کال میں ٹوماہاک میزائلوں کا ذکر کیا تھا۔
مزید پڑھیں: روس: معروف ٹیلیگرام نیوز چینل ’بازا‘ کے ایڈیٹر انچیف گرفتار، دفتر پر چھاپہ
پیسکوف کے مطابق، روس اس حملے کے جواب میں یوکرین کے ساتھ امن معاہدے کے حوالے سے زیادہ سخت سفارتی مؤقف اختیار کرے گا، جبکہ فوجی ردِعمل کا تعین مسلح افواج کریں گی۔














