معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے حالیہ واقعہ سے متعلق اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر تقریباً 60 افراد نے تشدد کیا تاہم ان کے منہ سے معافی کا ایک لفظ بھی نہیں نکلا اور نہ ہی ان کی آنکھ سے کوئی آنسو گرا۔
رجب بٹ نے حال ہی میں نادر علی کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں کراچی میں ان پر ہونے والے تشدد پر بات کرتے ہوئے نادر علی نے کہا کہ انسان غلطی کا پتلا ہے اور پھر وہ معافی بھی مانگ سکتا ہے کہ میں معذرت چاہتا ہوں تو کیا ایسے معاملات ہیں کہ منہ سے کچھ زیادہ نکلا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کی پٹائی کے ساتھ ساتھ 3 لاکھ روپے چوری کا الزام، یوٹیوبر کے وکیل نے مزید کیا بتایا؟
رجب بٹ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میری غلطی بتائیں تو میں اسی پوڈکاسٹ میں معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 60 بندوں نے مجھے مارا لیکن سوری کا ایس بھی میرے منہ سے نہیں نکلا اور آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا۔
رجب بٹ کے مطابق واقعے کے وقت وہاں 45 سے 60 وکلا موجود تھے اور اگر وہ چاہتے تو جوابی کارروائی کر سکتے تھے کیونکہ ان پر حملہ ہوا تھا لیکن چونکہ واقعہ عدالت کے احاطے میں پیش آیا اس لیے انہوں نے سرنڈر کر دیا اور ہاتھ باندھ لیے کیونکہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ نے صرف ایک ماہ میں ٹک ٹاک لائیو سے کتنے کروڑ روپے کمالیے؟
واضح رہے کہ کراچی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاکی بڑی تعداد نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور تشدد کرنے والے ایک وکیل نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ رجب بٹ خود کو بڑا شیر اور بہادر سمجھ رہا تھا لیکن آج اسے پتا لگ گیا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ رجب بٹ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ پنجاب میں ہے، اسے معلوم نہیں تھا کہ سندھ غیرت مند لوگوں کی دھرتی ہے اور یہاں کے لوگ بہادر ہیں۔ انہوں نے اپنے وکیل دوست بلال کھوکھر کا نام لیتے ہوئے کہاکہ ہم سب ان کو سلام پیش کرتے ہیں اور آج ہم نے رجب بٹ سے ان کا بدلہ لے لیا ہے۔














