یہ بات سائنس فکشن جیسی لگتی ہے کہ زمین سے سینکڑوں کلومیٹر اوپر خلا میں ایک فیکٹری کام کر رہی ہو تاہم برطانیہ کے شہر کارڈف میں قائم ایک کمپنی اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
اسپیس فورج نامی برطانوی کمپنی نے مائیکروویو اوون کے سائز کی ایک فیکٹری خلا میں مدار میں بھیج دی ہے اور کامیابی سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی بھٹی آن کی جا سکتی ہے جو تقریباً 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرتی ہے۔
کمپنی کا منصوبہ ہے کہ خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے مواد تیار کیا جائے جو بعد ازاں زمین پر الیکٹرانکس، مواصلاتی نظام، کمپیوٹنگ اور ٹرانسپورٹ میں استعمال ہو سکے گا۔
ماہرین کے مطابق خلا میں موجود حالات سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لیے انتہائی موزوں ہیں کیونکہ وہاں وزن نہ ہونے کی وجہ سے ایٹمز بالکل درست ترتیب میں جڑتے ہیں جبکہ خلا کا ویکیوم ماحول آلودگی کو بھی روکتا ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوش ویسٹرن کے مطابق خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والے سیمی کنڈکٹرز کے مقابلے میں 4 ہزار گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: خانہِ کعبہ خلا سے ہیرے کی مانند چمکتا نظر آتا ہے، ناسا کی تصویر نے دنیا کو حیران کر دیا
ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سیمی کنڈکٹرز 5 جی ٹاورز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز اور جدید طیاروں میں استعمال کیے جا سکیں گے۔
اسپیس فورج کی منی فیکٹری کو گزشتہ موسم گرما میں اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا جس کے بعد سے کارڈف میں قائم مشن کنٹرول سے اس کے مختلف نظاموں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
کمپنی کی پے لوڈ آپریشنز لیڈ ویرونیکا ویئرا کے مطابق خلا سے موصول ہونے والی بھٹی کے اندر کی تصویر، جس میں 1000 ڈگری سینٹی گریڈ پر چمکتا ہوا پلازما دکھائی دے رہا ہے، ان کی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرہ خلا میں مینوفیکچرنگ کے عمل کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے اور اس کامیابی نے ٹیم کو مزید حوصلہ دیا ہے۔
کمپنی اب ایک بڑی خلائی فیکٹری بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو ایک وقت میں 10 ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کر سکے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کی جانچ بھی کی جائے گی کہ تیار شدہ مواد کو محفوظ طریقے سے زمین پر کیسے واپس لایا جائے۔
مستقبل کی ایک مشن میں ’پرڈوین‘ نامی ہیٹ شیلڈ استعمال کی جائے گی جسے افسانوی بادشاہ آرتھر کی ڈھال کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ زمین کی فضا میں واپسی کے دوران شدید درجہ حرارت سے خلائی جہاز کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق خلا میں اشیا کی تیاری کا عمل اب محض تصور نہیں رہا۔
مزید پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
سائنس میوزیم کی اسپیس ہیڈ لیبی جیکسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے تاہم ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات نے اس بات کی راہ ہموار کر دی ہے کہ مستقبل میں خلا میں تیار کی جانے والی مصنوعات زمین پر انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔














