نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں میں اہم پیش رفت کی ہے اور 2025 میں کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک صرف 30 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ 2024 میں رپورٹ ہونے والے 74 کیسز کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ملک بھر کے 46 مقامات کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی، سندھ سب سے آگے
رپورٹ نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے بعد ملک میں کسی نئے پولیو کیس کی اطلاع نہیں ملی۔ مزید بتایا گیا کہ بلوچستان اور پنجاب میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو ان صوبوں میں بہتر نگرانی اور مسلسل ویکسینیشن کے اقدامات کی کامیابی کی علامت ہے۔
2025 میں ملک بھر میں 6 کامیاب انسداد پولیو مہم چلائی گئیں، جن میں سب سے حالیہ مہم میں 98 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین فراہم کی گئی۔ رپورٹ نے اسے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی محنت اور مشکل حالات میں ان کی خدمات کا ایک بڑا کارنامہ قرار دیا۔
پاکستان اب بھی دنیا کے دو ایسے ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو موجود ہے، دوسرا افغانستان ہے۔ اس سال کے 30 کیسز میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: رواں برس کی آخری قومی پولیو مہم کا آغاز، 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف
پولیو کے خاتمے کے لیے قومی ٹاسک فورس نے 2025–26 کا روڈ میپ بھی منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد وائرس کی ترسیل کو روکنے کے لیے سپلیمنٹری ویکسینیشن مہمات اور معمول کی ویکسینیشن کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔














