پاکستان میں ٹیلی کام شعبہ میں ترقی دیکھنے میں آرہی ہے اور اب ملک میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ جبکہ براڈبینڈ کنکشنز 15 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، یہ اعداد و شمار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ برائے 2024–25 میں جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹیلی کام کوریج 92 فیصد سے زائد ہو گئی ہے جبکہ براڈبینڈ پینی ٹریشن 60 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ٹیلی کام شعبے کی سالانہ آمدن ایک کھرب روپے سے زائد ہو گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ قومی خزانے میں ٹیلی کام سے شراکت 4 سو 2 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ سرمایہ کاری میں بھی 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 8 سو 48 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ’گو ٹیلی کمیونیکیشنز گروپ‘ کا پاکستان میں اے آئی ہب قائم کرنے کا فیصلہ
ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں توسیع کے نتیجے میں ڈیٹا کے استعمال کا حجم 27,727 پیٹا بائٹس تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کے 95 فیصد سیلولر نیٹ ورکس فورجی ہیں اور بین الاقوامی بینڈوتھ کی دستیابی 17.21 ٹی بی پی ایس تک پہنچ چکی ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں 4 نئے ہائی کیپیسٹی سب میرین کیبلز کے اضافے سے علاقائی رابطوں کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔
ملکی سطح پر موبائل ڈیوائسز کی تیاری میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے، جہاں 95 فیصد سے زائد موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں 68 فیصد اسمارٹ فونز شامل ہیں۔ پی ٹی اے نے نیشنل رومنگ کے نفاذ اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے سیٹلائٹ پر مبنی براڈ بینڈ انٹرنیٹ لانچ کردیا
سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں پاکستان کی عالمی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے۔ پی ٹی اے نے نیشنل ٹیلی کام سیکیورٹی آپریشنز سینٹر کے ذریعے سائبر خطرات کا مؤثر تدارک کیا، جس کے نتیجے میں صارفین کی شکایات میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔













