امریکا میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ، 2 دہائیوں بعد ریکارڈ تعداد رپورٹ

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں خسرہ کے کیسز کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور رواں سال اب تک 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔

امریکی مرکز برائے انسداد امراض (سی ڈی سی) کے مطابق 30 دسمبر تک 2026 میں خسرہ کے 2,065 مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ آخری بار 1992 میں خسرہ کے کیسز کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد بچوں کے لیے ایم ایم آر ویکسین کی دو خوراکیں لازمی قرار دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: گزشتہ برس دنیا بھر میں خسرہ سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، رپورٹ

خسرہ دنیا کی سب سے متعدی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم ایم ایم آر ویکسین انتہائی مؤثر ہے، جس کی ایک خوراک 93 فیصد اور دو خوراکیں 97 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ویکسینیشن کی شرح مسلسل کم ہورہی ہے۔ گزشتہ تعلیمی سال میں صرف 92.5 فیصد کنڈرگارٹن کے بچوں کو ایم ایم آر ویکسین دی گئی، جو وبا کی روک تھام کے لیے درکار 95 فیصد حد سے کم ہے۔

جنوبی کیرولائنا کے اپ اسٹیٹ علاقے اور ایریزونا-یوٹاہ سرحد پر جاری وبائیں بدستور پھیل رہی ہیں۔ جنوبی کیرولائنا میں اکتوبر سے شروع ہونے والی وبا میں اب تک تقریباً 180 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جنوبی کیرولائنا میں خسرے کی وبا میں تیزی، کم ویکسینیشن پر تشویش

اسی طرح یوٹاہ اور ایریزونا کی سرحد پر بھی 350 سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔ اس سے قبل ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں خسرہ کی وبا کے دوران تین غیر ویکسین شدہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا میں خسرہ کو سال 2000 سے ختم شدہ بیماری تصور کیا جاتا تھا، تاہم رواں سال مختلف ریاستوں میں جڑی ہوئی وباؤں کے باعث یہ حیثیت خطرے میں پڑگئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنوری تک کیسز میں اضافہ جاری رہا تو امریکا خسرہ کے خاتمے کی عالمی حیثیت کھو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان