پاکستان نے دریائے چناب پر بھارت کے مجوزہ دلہستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے تحت ایک سنگین تشویش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چناب پر بھارت کی نئی فتنہ گری: پانی کو ہتھیار بنانا قابل قبول نہیں، شیری رحمان
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اس منصوبے سے متعلق تفصیلی تکنیکی معلومات کے لیے بھارت کو باضابطہ طور پر درخواست دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان معلومات میں یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ آیا یہ ایک نیا رن آف دی ریور منصوبہ ہے یا کسی موجودہ منصوبے میں توسیع یا تبدیلی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارت نے دریائے چناب پر متنازع پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی
ترجمان نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود اجازت حاصل ہے جسے وہ یکطرفہ طور پر غلط استعمال نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی دریاؤں پر ہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر نہیں کر سکتا اور نئی دہلی کو فوری طور پر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی طرف واپس آنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، یمن میں امن پر زور،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ
طاہر حسین اندرابی نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور پاکستان اپنے شہریوں کے بنیادی آبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔













