2025 کے دوران چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ مجموعی طور پر 41 ہزار 472 افراد نے یہ خطرناک سفر طے کیا، جو اب تک کی دوسری سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ (ہوم آفس) کے مطابق نئے سال کی شام کوئی بھی مہاجر برطانیہ نہیں پہنچا جبکہ آخری بار کشتی کے ذریعے آمد 22 دسمبر کو ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: کیریبین میں ایک اور امریکی حملہ: منشیات بردار کشتی پر کارروائی، 4 ہلاک
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں آنے والے مہاجرین کی تعداد اگرچہ 2022 کے ریکارڈ 45 ہزار 774 سے کم رہی، تاہم یہ 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے، جب 36 ہزار 816 افراد برطانیہ پہنچے تھے۔ اسی طرح یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ رہی، جب 29 ہزار 437 تارکینِ وطن نے یہ سفر کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہر چھوٹی کشتی میں سوار افراد کی اوسط تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں فی کشتی اوسطاً 62 افراد سوار تھے، جبکہ یہ تعداد 2024 میں 53 اور 2023 میں 49 تھی۔
فلاحی اداروں کا اندازہ ہے کہ گزشتہ سال اس خطرناک سفر کے دوران کم از کم 36 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
یہ بھی پڑھیے: لیبیا کے ساحل کے قریب 2 کشتیوں کے حادثے میں کم از کم 4 تارکین وطن ہلاک، درجنوں لاپتا
اسکائی نیوز کے مطابق، برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک تقریباً 65 ہزار مہاجرین برطانیہ پہنچ چکے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے اس صورتحال کو قابو سے باہر اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے پناہ اور امیگریشن نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان مجوزہ اقدامات میں ویزہ قوانین مزید سخت کرنا، مستقل رہائش کے لیے طویل انتظار، بیرونِ ملک سے آنے والے طلبہ کے لیے گریجویشن کے بعد قیام کی مدت 18 ماہ تک محدود کرنا اور بعض مہاجرین کو مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کروانا شامل ہے۔














