امریکا میں پاستا کے شوقین افراد کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آ گئی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے اٹلی سے درآمد ہونے والے پاستا پر عائد کیے گئے بھاری ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے اطالوی پاستا کی قیمتیں تقریباً دگنی ہونے سے بچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:50 فیصد ٹرمپ ٹیرف نافذ سے ہونے سے پہلے ہی بھارتی کاروباری طبقہ بدترین بحران سے دوچار
اطالوی حکومت کے مطابق امریکا نے اٹلی میں قائم پاستا کی متعدد معروف کمپنیوں پر عائد کیے گئے اضافی ٹیرف واپس لے لیے ہیں۔ امریکی محکمۂ تجارت نے 13 اطالوی پاستا برانڈز پر لگائے گئے محصولات میں کمی کرتے ہوئے پہلے اعلان کردہ سخت فیصلے کو نرم کر دیا ہے۔
Italy says US has sharply cut proposed pasta tariffs after a review https://t.co/pStalHwNNn https://t.co/pStalHwNNn
— Reuters (@Reuters) January 1, 2026
ابتدا میں ان برانڈز پر 92 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں بارِیلا، لا مولیسانا اور پاستیفیچو لوشیو گاروفالو شامل تھے، جس سے ان مصنوعات کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہونے کا خدشہ تھا۔
نئے فیصلے کے تحت اب لا مولیسانا پر 2.26 فیصد، گاروفالو پر 13.98 فیصد جبکہ دیگر 11 کمپنیوں پر تقریباً 9 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔ امریکی حکام کے ابتدائی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ اطالوی کمپنیاں امریکی پاستا ساز اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کر رہیں۔
The U.S. has stepped back from imposing trade-killing duties on Italian pasta makers https://t.co/sqyMk4O7lz
— The Wall Street Journal (@WSJ) January 1, 2026
اطالوی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ٹیرف میں نظرثانی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی حکام اطالوی کمپنیوں کے تعاون اور شفاف طرزِعمل کو تسلیم کر رہے ہیں۔
اطالوی کاروباری تنظیموں کے مطابق اگر یہ ٹیرف برقرار رہتے تو امریکا بھیجے جانے والے تقریباً نصف پاستا پر منفی اثر پڑتا۔ سال 2024 میں امریکا نے اٹلی سے تقریباً 788 ملین ڈالر مالیت کا پاستا درآمد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف برقرار، امریکی اپیلز کورٹ نے عارضی طور پر معطلی کا فیصلہ مؤخر کردیا
واضح رہے کہ 2025 کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے، تاہم کئی معاملات میں صارفین پر بڑھتے بوجھ کے خدشے کے باعث ان فیصلوں کو واپس یا نرم کر دیا گیا۔












