پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، جو ملک کے لیے بڑا اعزاز ہوگا۔ کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی اپ گریڈیشن، گراس روٹ کرکٹ کے فروغ، اسکول سطح کے ٹورنامنٹس اور سندھ کے دیگر شہروں میں کرکٹ انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے منصوبوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی نے لاہور، راولپنڈی اور کراچی اسٹیڈیمز کے نئے ڈیزائن کی منظوری دے دی
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش ہے کہ مستقبل میں ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی پاکستان میں کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کی ویمن ٹیم چیمپئن بنی تھی تو دنیا بھر کے ممالک نے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ اس اعتماد کو عملی شکل دی جائے۔
پی سی بی چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے اختتام کے بعد نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تزئین و آرائش کا کام شروع کر دیا جائے گا، اور اس ہدف کے تحت اس اسٹیڈیم کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے بھی بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہتری کے بعد کراچی کے شائقین بڑی تعداد میں میچز دیکھنے اسٹیڈیم آئیں گے۔

محسن نقوی نے اسکول سطح پر جاری کرکٹ ٹورنامنٹ کو گراس روٹ کرکٹ کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹورنامنٹ پورے پاکستان میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں سینکڑوں تعلیمی ادارے شریک ہیں، جبکہ بڑے شہروں کی نمایاں ٹیموں کے لیے الگ مقابلے رکھے گئے ہیں، جن کا فائنل آئندہ مرحلے میں کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنا اور نیا ٹیلنٹ سامنے لانا ہے۔
پی سی بی چیئرمین نے سندھ میں کرکٹ سہولیات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں اسٹیڈیم کی تعمیر پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کراچی سمیت مختلف شہروں میں گراؤنڈز سے متعلق مسائل موجود ہیں، تاہم جلد اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کا اسٹیڈیم لاہور سے بھی اچھا ہوگا، پی سی بی چیئرمین نے نیا پلان شیئر کردیا
پاک بھارت کرکٹ تعلقات سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان ہر معاملے میں برابری کی بنیاد پر فیصلے کرے گا اور کسی بھی پیش رفت کا انحصار دوسری جانب کے رویے پر ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پی سی بی کا کردار کرکٹرز کو بیک اینڈ سپورٹ فراہم کرنا ہے، جبکہ میدان میں کارکردگی دکھانا کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہے، اور بورڈ آئندہ دنوں میں ملک بھر میں کرکٹ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرتا رہے گا۔













