امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب اور پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی کی جانب سے بھارت کے معروف سیاسی کارکن عمر خالد کے نام لکھا گیا ایک خط سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس پر بڑے پیمانے پر تبصرے اور ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔
یہ خط عمر خالد کی ایک دوست بانوجیوتسنا لہری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس کے ساتھ ان کی رہائی کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
عمر خالد کون ہیں؟
عمر خالد بھارت میں مسلمانوں کی ایک نمایاں تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کے بیٹے ہیں۔
انہیں گزشتہ تقریباً 5 برسوں سے بغیر باقاعدہ مقدمہ چلائے مختلف الزامات کے تحت دہلی کی تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا ہے۔
خط میں کیا لکھا گیا؟
یہ خط ظہران ممدانی نے اپنے ہاتھ سے ایک سادہ کاغذ پر تحریر کیا ہے، جس پر کوئی تاریخ درج نہیں۔
34 سالہ ممدانی نے اپنے مختصر مگر معنی خیز پیغام میں لکھا:
’پیارے عمر، میں اکثر آپ کی اس بات کے بارے میں سوچتا ہوں جو آپ نے تلخی کے اثرات اور اس کے زیرِ اثر نہ آنے کی اہمیت کے بارے میں کہی تھی۔ آپ کے والدین سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ہم سب آپ کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘
New York Mayor Zohran Mamdani has written a letter to former Jawaharlal Nehru University student and activist Umar Khalid, who remains lodged in Delhi’s Tihar Jail under India’s stringent Unlawful Activities (Prevention) Act.
The letter surfaced on social media on Thursday, the… pic.twitter.com/xeHS5jN06p
— IndiaToday (@IndiaToday) January 2, 2026
ملاقات کا پس منظر
عمر خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس نے دسمبر کے اوائل میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے امریکا کا دورہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دورے کے دوران ان کی ملاقات ظہران ممدانی سے ہوئی، جس کے بعد یہ خط لکھا گیا۔
ظہران ممدانی: پس منظر اور سیاسی مؤقف
ظہران ممدانی معروف فلمساز میرا نائر اور عالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔
انہوں نے یکم جنوری کو نیویارک کے میئر کا عہدہ سنبھالا اور خود کو ایک جمہوری سوشلسٹ قرار دیتے ہوئے انصاف، مساوات اور شہری حقوق کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
عمر خالد کی گرفتاری اور الزامات
عمر خالد کو ستمبر 2020 میں دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ دہلی میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے فسادات کو بھڑکانے کی مبینہ سازش میں شامل تھے۔
انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت جیل میں بند کیا گیا، اور تب سے وہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
عبوری ضمانت، پھر واپسی جیل
حال ہی میں دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد کو 27 دسمبر کو اپنی بہن عائشہ فاطمہ سیدہ کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی تھی، تاہم 29 دسمبر کو انہیں دوبارہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی دائیں بازو کی قوتیں ظہران ممدانی کی کامیابی پر برہم کیوں ؟
شہریت قانون کے خلاف احتجاج
عمر خالد بھارت کی موجودہ ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے منظور کردہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف ہونے والے احتجاج میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ قانون پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم افراد کو شہریت دینے کی بات کرتا ہے، جبکہ مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
دہلی فسادات اور عدالتی کارروائی
دہلی پولیس کا الزام ہے کہ عمر خالد شمال مشرقی دہلی میں 2020 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی سازش میں ملوث تھے، جن میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا نے ان کی ضمانت کی کوششیں کیں، تاہم دہلی کی عدالت، دہلی ہائیکورٹ اور بعد ازاں نچلی عدالتوں نے ان کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
اس وقت ان کی اپیل سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرِ سماعت ہے۔
انسانی حقوق کا معاملہ عالمی توجہ میں
ظہران ممدانی کا خط ایک بار پھر عمر خالد کی طویل حراست اور بھارت میں اختلافی آوازوں کے خلاف کارروائیوں پر عالمی توجہ مبذول کرا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر ان کی فوری رہائی کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔
جب ممدانی نے نیویارک میں وزیرِاعظم مودی کے دورے سے قبل عمر خالد کا خط پڑھا
واضح رہے کہ نیویارک کی میئرشپ کے لیے انتخابی مہم کے دوران بھی ظہران ممدانی کے ماضی کے بیانات اور تقاریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں، جو بھارتی سیاست اور انسانی حقوق سے متعلق تھے۔
وائرل ویڈیوز میں ایک ویڈیو خاص طور پر نمایاں ہے، جس میں ممدانی بھارت میں قید طالب علم رہنما اور سماجی کارکن عمر خالد کی تحریر پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ خطاب 2023 میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے نیویارک کے دورے سے قبل کیا گیا تھا، اس وقت ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن تھے۔
یہ بھی پڑھیے نریندر مودی قاتل ہیں، انہوں نے گجرات میں قتل عام کیا، میئر نیویارک ظہران ممدانی کی ویڈیو وائرل
خطاب کے دوران ممدانی نے کہا ’میں عمر خالد کا خط پڑھنے جا رہا ہوں، جو دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے لنچنگ اور نفرت کے خلاف ایک مہم منظم کی۔ وہ ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت جیل میں ہیں، بغیر کسی مقدمے کے، اور ان کی ضمانت بار بار مسترد کی جا چکی ہے۔ ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش بھی ہو چکی ہے۔‘
یہ خطاب ایک بھرے ہوئے ہال میں دیا گیا، جسے حاضرین کی جانب سے خاصی توجہ ملی تھی۔
ممدانی نے ایک دوسری تقریب کے دوران بھارتی وزیرِاعظم مودی کا تقابل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے کیا تھا۔ گجراتی نژاد ہونے کے باوجود ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق، انصاف اور جمہوری اقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے تنقید کسی بھی عالمی رہنما پر کیوں نہ ہو۔













