کراچی کی قدیم بستی لیاری ان دنوں ایک بار پھر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ بالی ووڈ کی فلم دھرندر ہے۔ اس فلم میں لیاری کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ لیاری کے عوام، خصوصاً نوجوان اس فلم کو سنجیدگی کے بجائے ایک لطیفے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے۔
آج کا لیاری گینگ وار اور منشیات کے حوالے سے نہیں بلکہ فٹبال اور ریپ کی وجہ سے پہچانا جا رہا ہے۔ لیاری کی ایک نئی شناخت تیزی سے ابھر رہی ہے، تاہم یہ اب تک دنیا تک اس طرح نہیں پہنچ سکی جیسا کہ پہنچنا چاہیے تھا۔
گینگ وار کے خوف کے سائے میں پل بڑھ کر جوان ہونے والی لیاری کی نئی نسل اب روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) جیسے جدید شعبوں میں نہ صرف اپنا بلکہ اپنے علاقے کا نام بھی روشن کر رہی ہے۔
دسمبر کی خنک صبح، تنگ گلیوں اور مصروف بازاروں سے گزرتے ہوئے جب ایک گلی میں واقع لیاری میں سن 2012 میں قائم بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی (بی بی ایس یو) کے ڈپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پہنچا گیا تو خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیورسٹی کی راہداریوں اور کلاس رومز میں موجود خوش باش، پُرجوش اور پُراعتماد نوجوان چہروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہی وہ لیاری ہے جو کبھی دنیا بھر میں گینگ وار، تشدد اور منشیات کے باعث بدنام رہا ہے۔ مزید جانیے آصفہ ادریس کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔













