پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومتِ پنجاب نے لاہور میں بسنت کو محفوظ انداز میں منانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں بسنت پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت: پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مقصد کے تحت شہر بھر میں 100 سیفٹی کیمپس قائم کیے جائیں گے جبکہ شہریوں میں 10 لاکھ سیفٹی راڈز تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 23 مختلف روٹس پر فری رائیڈ کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق محفوظ بسنت کی تقریبات صرف ضلع لاہور کی حدود میں 3 روز تک، یعنی 6، 7 اور 8 فروری کو منعقد ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پتنگ اور ڈور کی فروخت یکم فروری سے 8 فروری 2026 تک کی اجازت ہوگی، تاہم 6 فروری سے پہلے لاہور میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3روزہ ’محفوظ بسنت‘ منانے کا فیصلہ، سخت قوانین نافذ

ان کا کہنا تھا کہ محفوظ بسنت کے تینوں دنوں میں سیفٹی راڈ کے بغیر کسی موٹر سائیکل کو لاہور کی سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید یہ کہ پتنگ بازی میں استعمال ہونے والے مواد کی تیاری بھی صرف ضلع لاہور تک محدود رکھی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی حملے کو اعلان جنگ سمجھا جائےگا، ایرانی صدر نے خبردار کردیا

غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینا ہوں گے، ٹرمپ انتظامیہ نے 60 ممالک کو چارٹر بھیج دیا

اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ ایڈوائزری پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شامی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

ویڈیو

کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر دوسرے روز بھی قابو نہ پایا جا سکا، 6 افراد جاں بحق، عمارت کے کئی حصے منہدم

مردان جیل کے قیدی ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ کمائی بھی کرنے لگے، مگر کیسے؟

کشمیری وازوان، ذائقوں کی روایت اور تاریخ

کالم / تجزیہ

منٹو کا ہم راہی

مصدق سے مادورو تک

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے