بنگلہ دیش کی ٹریول انڈسٹری کے رہنماؤں نے حکومت کے نئے آرڈیننس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نفاذ سے ملک بھر میں تقریباً 5 ہزار ٹریول ایجنسیاں بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ کاروبار دشمن ہے اور ٹریول سیکٹر کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ٹریول ایجنسی رجسٹریشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2026، جو یکم جنوری کو جاری کیا گیا، میں لائسنسنگ اور آپریشنز کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق یہ قواعد چھوٹی اور درمیانی درجے کی ایجنسیوں کو شدید متاثر کریں گے، جو بنگلہ دیش کی ٹریول مارکیٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار اور توحید حسین کا رابطہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
ایسوسی ایشن آف ٹریول ایجنٹس آف بنگلہ دیش کے سابق صدر منظور مرشد محبوب نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی کئی نئی شقیں معمول کی کاروباری سرگرمیوں کو تقریباً ناممکن بنا دیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک شق کے تحت ٹریول ایجنسیوں کو آپس میں ہوائی ٹکٹ خریدنے اور فروخت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تقریباً 5,800 رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیاں ہیں، جن میں سے صرف 800 کے قریب حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ باقی ایجنسیاں بڑی ایجنسیوں کے ذریعے ٹکٹ جاری کرواتی ہیں۔ اس عمل پر پابندی لگنے سے یہ ایجنسیاں اپنے سیلز اہداف پورے نہیں کر پائیں گی اور بالآخر بند ہو جائیں گی۔
ایک اور شق کے تحت غیر رجسٹرڈ ایجنسیوں کو 10 لاکھ ٹکا کی بینک گارنٹی جمع کرانا ہوگی۔ ٹریول انڈسٹری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر چھوٹی ایجنسیاں یہ بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع
تقریب سے خطاب کرنے والوں نے اس پابندی پر بھی تنقید کی جس کے تحت ریکروٹنگ ایجنسیوں اور ٹریول ایجنسیوں کو ایک ہی پتے پر کام کرنے سے روکا گیا ہے، حالانکہ یہ طریقہ بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کے اخراجات کم کرنے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند افراد کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
ٹریول انڈسٹری کے رہنماؤں نے اس شق پر بھی اعتراض اٹھایا جس میں حکام کو بغیر پیشگی سماعت کے ایجنسیوں کے لائسنس معطل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اختیارات کے غلط استعمال اور بھاری مالی نقصانات کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے سخت سزاؤں کی بھی مخالفت کی، جن کے تحت قید کی مدت بڑھانے اور جرمانے 10 لاکھ ٹکا تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ٹریول سیکٹر کے نمائندوں نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آرڈیننس واپس لیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو ہزاروں ملازمتیں اور ان سے وابستہ خاندانوں کا روزگار شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔











