ونٹر اکانومی، بلوچستان کی خوبصورت وادیاں ملکی معیشت کے لیے کتنی اہم؟

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے بالائی علاقوں میں حالیہ برفباری نے زیارت، کان مہترزئی اور گردونواح کے پہاڑوں کو سفید چادر اوڑھا دی ہے۔ سرد موسم، برف سے ڈھکے دیودار کے جنگلات اور دھند میں لپٹے پہاڑ ایک بار پھر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔

کوئٹہ سے قریبی سیاحتی مقام زیارت کی سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ تو ہوا ہے، مگر یہ رش ماضی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ وہ دن جب ہزاروں سیاح سردیوں میں بلوچستان کا رخ کرتے تھے، اب صرف وہ یادیں باقی رہ گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: عیدالفطر پر بلوچستان کے کون سے سیاحتی مقامات کی سیر کی جاسکتی ہے؟

سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ 2 سال قبل تک بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال نسبتاً بہتر تھی، جس کے باعث سردیوں اور بالخصوص برفباری کے موسم میں کراچی سے بڑی تعداد میں سیاح کوئٹہ اور زیارت آتے تھے۔

’سردیوں کے سیزن میں 10 ہزار سے زیادہ سیاح کراچی سے بلوچستان کا رخ کرتے تھے‘

ایسوسی ایشن آف کراچی ٹور آپریٹرز کے سیکریٹری اطلاعات سید عمار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہفتہ وار ایک ہزار سے پانچ ہزار سیاح کراچی سے روانہ ہوتے تھے، جبکہ مجموعی طور پر سردیوں کے سیزن میں 10 ہزار سے زیادہ سیاح صرف کراچی سے بلوچستان کا رخ کرتے تھے۔

’تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر محض 500 سے ایک ہزار کے درمیان رہ گئی ہے، جس سے ٹریول ایجنٹس کا کاروبار قریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔‘

سیاحوں کی کمی کا براہِ راست اثر ہوٹل انڈسٹری پر بھی پڑا ہے۔ کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل مالک الیاس احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 2 سے 3 برس میں سیاحوں کی آمد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پہلے برفباری کے موسم میں ہوٹل مکمل بھرے رہتے تھے اور ایک سیزن میں 10 سے 15 لاکھ روپے تک آمدن ہو جاتی تھی، مگر اب حالات ایسے نہیں رہے۔

حکومت سے صوبے میں سیکیورٹی بہتر کرنے کا مطالبہ

انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت صوبے میں سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائے تاکہ سیاح بلا خوف و خطر بلوچستان آئیں اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔

بلوچستان سیاحتی اعتبار سے بے پناہ پوٹینشل رکھتا ہے۔ زیارت کے دیودار کے جنگلات، کوئٹہ کی وادی، ہنہ جھیل اور زیارت ریزیڈنسی کے علاوہ صوبے کے دیگر اہم سیاحتی مقامات میں گوادر کا ساحل، پسنی اور اورماڑہ کے خوبصورت بیچز، کنڈ ملیر، ہنگول نیشنل پارک، پرنسس آف ہوپ، خضدار اور قلات کے تاریخی مقامات، ہرنائی اور مسلم باغ کے قدرتی مناظرشامل ہیں۔

اگر ان مقامات کو بہتر سہولیات اور مؤثر تشہیر کے ذریعے سامنے لایا جائے تو بلوچستان ملکی اور غیر ملکی سیاحت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

بلوچستان کی ٹورازم انڈسٹری کی مجموعی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے، ماہرین

ماہرین کے مطابق بلوچستان کی ٹورازم انڈسٹری کی مجموعی مالیت اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ سیاحت کے فروغ سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری، فوڈ انڈسٹری اور مقامی کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے، جس سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نجی سرمایہ کاروں کو انویسٹمنٹ کی دعوت دے چکے ہیں، حکومتی ذرائع

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان پہلے ہی نجی سرمایہ کاروں کو سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری کی دعوت دے چکے ہیں تاکہ بڑے ہوٹل، ریزورٹس اور ریسٹورنٹس قائم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں کون کون سے سیاحتی مقامات موسم گرما میں گھومے جاسکتے ہیں؟

حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے۔

سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، نجی شعبہ اور مقامی آبادی مل کر کام کریں تو برفباری کے یہ حسین مناظر نہ صرف بلوچستان کی پہچان بن سکتے ہیں بلکہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا

احتجاج کو روکنے کا اختیار، عوامی ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی پیشکش

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نسیم شاہ کو مہنگی پڑ گئی، آئی سی سی کا بڑا فیصلہ

برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں

ویڈیو

پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری، نئی تاریخ رقم ہوگئی

پاکستان اور چین کا باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

خیبر پولو فیسٹیول 2026 کا پہلا ایڈیشن، گلگت بلتستان نے چترال کو شکست دیدی

کالم / تجزیہ

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟

جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال